بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

دادا‌کی‌طرف‌سے‌حجِ‌بدل

سوال:۔

میرے دادا کا انتقال ہوچکا ہے اور انہوں نے حج کے فارم بھردئیے تھے، اور ان کا نمبر بھی آگیا تھا، لیکن انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی بیوی یعنی میری دادی کو کہا تھا کہ اگر میں مرجاؤں تو تم حج پر چلی جانا، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا میری دادی عدّت کے دوران جاسکتی ہے؟

جواب:۔

آپ کی دادی صاحبہ کو عدّت کے دوران حج پر جانا جائز نہیں،(۱) عدّت کے بعد اگر محرَم کے ساتھ جاسکتی ہو تو جائے، اور اگر کوئی محرَم ساتھ جانے والا نہیں تو حجِ بدل کی وصیت کردے۔(۲) یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جبکہ آپ کی دادی صاحبہ پر حج فرض ہو، اور اگر آپ کے داداجان نے مرنے سے پہلے حجِ بدل کی وصیت کی تھی تو آپ کے داداجان کی طرف سے حجِ بدل کروانا لازم ہے، خواہ خود جائیں یا کسی اور کو بھیجیں۔(۳)

  1. (۱) المعتدۃ لَا تسافر لَا للحج ولَا لغیرہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۳۵)۔ أیضًا: فلا تخرج المرأۃ إلی الحج فی عدۃ طلاق أو موت۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۱ ص:۲۱۹، أیضًا الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۳ ص:۳۶ طبع دار الفکر بیروت)۔
  2. (۲) والذی اختارہ فی الفتح أنہ مع الصحۃ وأمن الطریق شرط وجوب الأداء فیجب الْإیصاء إن منع المرض وخوف الطریق أو لم یوجد زوج ولَا محرم۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۴۶۵)۔
  3. (۳) ومنھا أن یکون حج المأمور بمال المحجوج عنہ فإن تطوع الحاج عنہ بمال نفسہ لم یجز عنہ حتّٰی یحج بمالہ وکذا إذا أوصٰی أن یحج بمالہ ومات فتطوع عنہ وارثہ بمال نفسہ، کذا فی البدائع۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۷)۔