بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

معذور‌باپ‌کی‌طرف‌سے‌جدہ‌میں‌مقیم‌بیٹا‌کس‌طرح‌حجِ‌بدل‌کرے؟

سوال:۔

دس سال قبل میرے بیٹے متعینہ جدہ نے مجھے اپنے ساتھ کراچی سے لے جاکر عمرہ کرادیا تھا، ہنوز حج کی سعادت سے محروم ہوں، بیٹے نے بارہ چودہ حج کئے ہیں، اگر وہ ایک حج مجھے بخش دے تو کیا میری طرف سے وہ حج ہوجائے گا؟ میری عمر ۸۷ سال ہے، دُوسرا بیٹا بھی دو تین حج کرچکا ہے، جدہ میں ملازم ہے، کراچی رُخصت پر آنے کا ارادہ ہے، واپسی پر کراچی سے جدہ پہنچ کر ایامِ حج میں وہ میری طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہے؟

چند ماہ پیشتر آپ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں تحریر کرچکے ہیں کہ حجِ بدل کے لئے بہتر ہے کہ وہ اپنا حج کرچکا ہو اور پھر اسی مقام یعنی کراچی سے ہی سفر کرکے جدہ پہنچے اور حجِ بدل کرے۔ میں چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہا ہوں۔

جواب:۔

اگر آپ کے ذمہ حج فرض ہے تو حجِ بدل کے لئے کسی کو کراچی سے بھیجنا ضروری ہے،(۱) خواہ آپ کا بیٹا جائے یا کوئی اور۔ اور اگر حج آپ پر فرض نہیں تو آپ کا بیٹا جدہ سے بھی آپ کی طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہے، اور وہ اپنا ایک حج آپ کو بخش دے تب بھی آپ کو اس کا ثواب مل جائے گا۔(۲) لیکن اگر آپ پر حج فرض ہے تو پھر ادا شدہ حج کے ثواب بخشنے سے وہ فرض پورا نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ بیٹا جو کراچی سے جدہ جارہا ہے اگر وہ آپ کے خرچے سے یہاں سے اِحرام باندھ کر، آپ کی طرف سے حج کی نیت کرکے حج کے مہینوں میں جائے اور حج ادا کرلے تو آپ کا حجِ بدل عذر کی وجہ سے ادا ہوجائے گا۔(۳)

  1. (۱) (فلو أحج الوصی عنہ من غیرہ) أی من غیر بلدہ فیما إذا وجب الْإحجاج من بلدہ لم یصح ویضمن ویکون الحج لہ ویحج عن المیت ثانیًا۔ (ردّ المحتار ج:۲ ص:۶۰۵، باب الحج عن الغیر، طبع ایچ ایم سعید)۔ وأما المقصر الذی مات فتصح منہ بل تجب الوصیۃ بالْإحجاج عنہ ویکون من بلدہ إن لم یعین مکانًا آخرًا۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ، مشروعیۃ فی الحج، ج:۳ ص:۴۱، طبع دار الفکر بیروت)۔
  2. (۲) باب الحج عن الغیر: الأصل أن کل من أتی بعبادۃ مَّا لہ جعل ثوابھا لغیرہ، (وفی الشامیۃ) قولہ بعبادۃ مَّا لہ أی سواء کانت صلاۃ أو صومًا أو صدقۃ ۔۔۔ أو حجًّا أو عمرۃ أو غیر ذٰلک۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۵۹۵)۔ وأیضًا: اتفق العلماء علٰی وصول ثواب الدعاء والصدقۃ والھدی للمیت للحدیث السابق: إذا مات الْإنسان انقطع عملہ إلّا من ثلاث: صدقۃ جاریۃ، أو علم ینتفع بہ، أو ولد صالح یدعو لہ۔ وقال جمہور أھل السُّنَّۃ والجماعۃ: للإنسان أن یجعل ثواب عمل لغیرہ صلاۃ أو صومًا أو صدقۃ أو تلاوۃ قرآن ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ، إھداء ثواب الأعمال للمیت ج:۳ ص:۳۸، ۳۹)۔
  3. (۳) ولجواز النیابۃ فی الحج شرائط منھا أن یکون المحجوج عنہ عاجزًا عن الأداء بنفسہ ولہ مال وإن کان قادرًا علی الأداء بنفسہ بأن کان صحیح البدن ولہ مال أو کان فقیرًا صحیح البدن لَا یجوز حج غیرہ عنہ، ومنھا إستدامۃ العجز من وقت الْإحجاج إلٰی وقت الموت کذا فی البدائع۔ (فتاویٰ ھندیۃ، الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر ج:۱ ص:۲۵۷)۔