حجِبدل
والدہکاحجِبدل
سوال:۔
میری والدہ محترمہ کا انتقال گزشتہ سال ہوگیا، کیا میں ان کی طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہوں؟ جبکہ میں نے اس سے قبل حج نہیں کیا ہے۔ کیا مجھے پہلے اپنا حج اور پھر والدہ کی طرف سے حج کرنا پڑے گا یا پہلے صرف والدہ کی طرف سے حج کرسکتا ہوں؟
جواب:۔
بہتر یہ ہے کہ حجِ بدل ایسا شخص کرے جس نے اپنا حج کیا ہو، جس نے اپنا حج نہ کیا ہو اس کا حجِ بدل پر جانا مکروہ ہے۔(۱)
- (۱) (الجواب) یجوز لمن لم یکن حج عن نفسہ أن یحج عن غیرہ لٰـکنہ خلاف الأفضل، ویسمّٰی حج الصرورۃ۔ (الفتاویٰ تقنیح الحامدیۃ ج:۱ ص:۱۳)۔ وأیضًا: والذی یقتضیہ النظر أن حج الصرورۃ (الذی لم یحج عن نفسہ) عن غیرہ إن کان بعد تحقق الوجوب علیہ بملک الزاد والراحلۃ والصحۃ فھو مکروہ کراھۃ تحریم ۔۔۔ ومع ذٰلک یصح لأن النھی لیس لعین الحج ۔۔۔ قال فی البحر والحق انھا تنزیھیۃ علی الآمر۔ (فتاویٰ شامی، مطلب فی حج الصرورۃ ج:۲ ص:۶۰۳)۔

