بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

والدہ‌کی‌طرف‌سے‌حجِ‌بدل‌ادا‌کرنا

سوال:۔

ہماری والدہ مرحومہ کی دلی خواہش تھی کہ میں حج کروں، لیکن شاید ان کے نصیب میں نہیں تھا، کچھ دن پہلے ان کا اِنتقال ہوگیا۔ اب جبکہ ہماری ایک بہن جو کہ بیوہ ہے، صرف لڑکیاں ہیں، کوئی بیٹا بھی نہیں ہے، کسی قسم کا کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے، چاہتے ہیں کہ ان کو حج کروادیں، کیا ہمارا ایسا کرنا صحیح ہے؟ کیا اس حج کا ثواب ہماری والدہ صاحبہ کو بھی ملے گا؟

جواب:۔

جو اپنا فرض حج ادا کرچکا ہو وہ ان کی طرف سے نفلی حج ادا کرسکتا ہے۔(۱)

  1. (۱) والأفضل للإنسان إذا أراد أن یحج رجلًا عن نفسہ أن یحج رجلًا قد حج عن نفسہ، ومع ھٰذا لو أحج رجلًا لم یحج عن نفسہ حجۃ الْإسلام یجوز عندنا، وسقط الحج عن الآمر کذا فی المحیط۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب المناسک، الباب الرابع عشر فی الحج عن الغیر ج:۱ ص:۲۵۷، طبع رشیدیہ)۔