حجِبدل
بغیروصیتکےمرحوموالدینکیطرفسےحج
سوال:۔
اگر زید کے والدین اس دُنیا سے رحلت فرماگئے ہوں تو زید بغیر اپنے والدین کی وصیت کے ان کے لئے حج و عمرہ ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر کرسکتا ہے تو وہ حج کے تینوں اقسام میں سے کون سا حج ادا کرے گا؟
سوال:۔
مذکورہ ’’عازم‘‘ حج سے پہلے عمرہ بھی ادا کرسکتا ہے یا صرف حج ہی ادا کرے گا؟
سوال:۔
اگر والدین پر حج فرض نہیں تھا، یعنی صاحبِ اِستطاعت نہیں تھے، بیٹا صاحبِ اِستطاعت ہے تو والدین کے لئے حج و عمرہ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر کرسکتا ہے تو حج فرض ہوگا یا نفلی؟
جواب:۔
اگر والدین کے ذمہ حج فرض تھا اور انہوں نے حجِ بدل کرانے کی وصیت نہیں کی تو اگر زید ان کی طرف سے حج کرادے یا خود کرے تو اُمید ہے کہ ان کا فرض ادا ہوجائے گا۔ تینوں اقسام میں سے جونسا حج بھی کرلے صحیح ہے۔(۱)
جواب:۔
بغیر وصیت کے جو حج کیا جارہا ہے اس سے پہلے عمرہ بھی کرسکتا ہے۔(۲)
جواب:۔
حج کرسکتا ہے، لیکن یہ نفلی حج ہوگا۔(۳)
- (۱) ولو مات رجل بعد وجوب الحج ولم یوص بہ، فحج رجل عنہ أو حج عن أبیہ أو أمّہ عن حجۃ الْإسلام من غیر وصیۃ، قال أبوحنیفۃ: یجزیہ إن شاء اللہ ۔۔۔ لأنہ إیصال للثواب وھو لَا یختص بأحد من قریب أو بعید۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۶۰۰، باب الحج عن الغیر، قبیل مطلب شروط الحج عن الغیر عشرون، طبع سعید)۔
- (۲) وھٰذہ الشرائط کلھا فی الحج الفرض، وأما النفل فلا یشترط فیہ شیء منھا إلّا الْإسلام والعقل والتمیز۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۶۰۱، باب الحج عن الغیر، مطلب شروط الحج عن الغیر عشرون)۔
- (۳) ایضاً۔

