حجِبدل
مجبوریکیوجہسےحجِبدل
سوال:۔
میں دِل کا مریض ہوں، عرصے سے بیت اللہ کی زیارت کی خواہش ہے، تکلیف ناقابلِ برداشت ہوگئی ہے، کمزوری بے حد ہے اور میری عمر ۶۵ سال ہے، خونی بواسیر بھی ہے، چند وجوہات سے تکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہے، میں اپنی حالت کی مجبوری کے باعث اپنے عزیز کو حجِ بدل کے لئے بھیج رہا ہوں، کیا میرے ثواب میں کمی بیشی تو نہیں ہوگی؟ کیا میری آرزو کے مطابق مجھے ثواب حاصل ہوگا؟ اور یہ بھی بتائیں کہ حج پر جانے سے پیشتر جو فرض واجب ہوتے ہیں ان فرائض کی ادائیگی میرے ذمہ بھی فرض ہے یا نہیں؟ مثلاً رشتہ داروں سے ملنا، کہا سنا معاف کرانا وغیرہ، اور دیگر شرعی کیا فرائض میرے اُوپر واجب ہوتے ہیں؟
جواب:۔
اگر آپ خود جانے سے معذور ہیں تو کسی کو حجِ بدل پر بھیج سکتے ہیں، آپ کا حج ہوجائے گا۔ کہا سنا معاف کرانا ہی چاہئے۔(۱)
- (۱) (سئل) فی المعذور الذی لَا یرجی برؤہ إذا أمر بأن یحج عنہ غیرہ، وحج عنہ فھل سقط الفرض عنہ، استمر ذٰلک العذر أم لَا؟ (الجواب) إذا کان لَا یرجٰی برؤہ یسقط الفرض عنہ، استمرَّ العذر أو لَا، وإن کان یرجی برؤہ یشترط عجزہ إلٰی موتہ کما فی البحر وغیرہ۔ (الفتاویٰ تنقیح الحامدیۃ، کتاب الحج ج:۱ ص:۱۴، طبع رشیدیہ)۔

