بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

حجِ‌بدل‌کے‌سلسلے‌میں‌اِشکالات‌کے‌جوابات

سوال:۔

ہمارے ہاں عام طور پر حجِ بدل سے جو مفہوم لیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ حجِ بدل اس میّت کی طرف سے ہوتا ہے جس پر اس کی زندگی میں حج فرض ہوچکا تھا، اس کے پاس اتنا مال جمع تھا کہ جس کی بنا پر وہ بآسانی حج کرسکتا ہو، اس نے حج کا ارادہ بھی کرلیا لیکن حج سے پہلے ہی اسے موت نے آن گھیرا، اب اس کے چھوڑے ہوئے مال میں سے اس کا کوئی عزیز یا بیٹا اس کی طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہے۔ اسی طرح زندوں کی طرف سے حجِ بدل کا یہ مفہوم پیش کیا جاتا ہے کہ اگر اس پر حج فرض ہوچکا ہے لیکن وہ بیماری یا بڑھاپے کی اس حالت میں پہنچ چکا ہو جس کی بنا پر چلنے پھرنے یا سواری کرنے سے معذور ہے، تو وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو یا کسی قریبی عزیز کو پورا خرچہ دے کر حج کے لئے روانہ کرے۔ اس کے لئے بھی یہ شرط ہے کہ حجِ بدل کرنے والا شخص وہاں سے ہی آئے جہاں پر حجِ بدل کروانے والا شخص رہ رہا ہے۔

اس تمام صراحت کے باوجود کچھ سوال ذہن میں ایسے ہیں جو تصفیہ طلب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مرنے والا ایک شخص موت کے وقت اس قابل نہیں تھا کہ وہ حج کرسکے یا یوں کہہ لیجئے کہ اس کے اُوپر کچھ ذمہ داریاں ایسی تھیں جن سے وہ اپنی موت تک عہدہ برآ نہیں ہوسکا تھا، اور سرمایہ بھی نہیں تھا، جس کی وجہ سے اس پر حج فرض نہیں ہوسکتا تھا، اب اس کی موت سے عرصہ ۲۰ سال کے بعد اس کی اولاد اس قابل ہوجاتی ہے اور اس میں اتنی اِستطاعت بھی ہے کہ ہر فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنا حج بھی کرسکے اور اپنے باپ کا بھی، تو اَب ہمیں یہ بتایا جائے کہ اولاد کی طرف سے اپنے باپ کے لئے کیا جانے والا یہ حج، حجِ بدل ہوسکتا ہے؟ (واضح رہے کہ باپ اپنی موت کے وقت اس قابل نہیں تھا کہ حج کرسکے)، اور کیونکہ حجِ بدل کے لئے یہ دلیل مستحکم سمجھتی جاتی ہے کہ جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جائے موت سے پہلے اس پر حج فرض ہوچکا ہو، تو کیا مذکورہ بالا شخص اپنے باپ کی طرف سے حج نہیں کرسکتا؟ کیونکہ موت سے پہلے اس کے باپ پر حج فرض نہیں تھا۔

اب زندوں کی طرف آئیے، زندوں کی طرف سے بھی حجِ بدل اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب وہ خود اس قابل نہ ہو کہ حج کرسکے، یعنی سرمایہ ہونے کے باوجود جسمانی معذوری یا بڑھاپے کی وجہ سے چل نہیں سکتا تو وہ حج کا خرچہ دے کر اپنی کسی اولاد یا اپنے کسی عزیز کو حجِ بدل کروانے بھیج سکتا ہے۔ اب اگر باپ کے پاس سرمایہ نہ ہو، جسمانی طور پر معذور بھی ہو، یعنی اس پر حج کی فرضیت لازم نہیں آتی تو اس کا بیٹا جو اس سے الگ رہتا ہو (یہ ذہن میں رہے کہ ناچاقی کی بنا پر الگ نہیں رہتا بلکہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے الگ رہنے پر مجبور ہے)، صاحبِ اِستطاعت ہے، خود حج کرچکا ہے، تو کیا وہ اپنے باپ کی طرف سے حج کرسکتا ہے؟ جناب اب دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ماں باپ کے پاس پیسہ نہیں ہے یا باپ کام کاج نہیں کرتا (جیسا کہ عموماً آج کل ہوتا ہے کہ بیٹا کسی قابل ہوجائے تو احترام کے پیشِ نظر وہ باپ کو کام کرنے نہیں دیتا)، جسمانی طو پر بھی ٹھیک ہیں، تو کیا وہ اپنے بیٹے کے خرچ سے حج کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ حج میں ان کا سرمایہ بالکل نہیں لگے گا۔

اب آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا بیٹے کے خرچے سے ماں باپ کا حج ہوگا کہ نہیں؟ برائے مہربانی ان سوالوں کا تسلی بخش جواب دے کر مجھے ذہنی پریشانی سے نجات دِلائیں۔ نیز یہ کہ اولاد صاحبِ اِستطاعت ہونے کے باوجود زندہ یا مردہ ماں باپ کی طرف سے حجِ بدل نہ کرے تو اس پر کوئی گناہگار ہوگا کہ نہیں؟ یہ بھی کہ ’’عمرہ بدل‘‘ کی بھی کیا وہی شرائط ہیں جو حجِ بدل کی ہیں؟

جواب:۔

جس زندہ یا مردہ پر حج فرض نہیں، اس کی طرف سے حجِ بدل ہوسکتا ہے، مگر یہ نفلی حج ہوگا۔(۱)

۲:۔ اگر باپ کے پاس رقم نہ ہو اور بیٹا اس کو حج کی رقم دے دے تو اس رقم کا مالک بنتے ہی بشرطیکہ اس پر کوئی قرض نہ ہو، اس پر حج فرض ہوجائے گا۔(۲)

۳:۔ اولاد کے ذمہ ماں باپ کو حج کرانا ضروری نہیں، لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہو تو ماں باپ کو حج کرانا بڑی سعادت ہے۔(۳)

۴:۔ اگر ماں باپ نادار ہیں اور ان پر حج فرض نہ ہو تو اولاد کا ان کی طرف سے حجِ بدل کرنا ضروری نہیں۔

۵:۔ عمرہ بدل نہیں ہوتا، البتہ کسی کی طرف سے عمرہ کرنا صحیح ہے، زندہ کی طرف سے بھی اور مرحوم کی طرف سے بھی، اس کا ثواب ان کو ملے گا جن کی طرف سے ادا کیا جائے۔(۴)

  1. (۱) عن أنس رضی اللہ عنہ قال: یا رسول اللہ ! إنّا نتصدق عن موتانا ونحج عنھم وندعوا لھم، فھل یصل ذالک لھم؟ قال: نعم! انہ لیصل إلیھم ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۵۹۶، باب الحج عن الغیر، مطلب فیمن أخذ بعبادتہ شیئًا من الدنیا)۔
  2. (۲) وأما شرائط وجوبہ ۔۔۔ ومنھا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ بطریق الملک أو الْإجارۃ ۔۔۔ وتفسیر ملک الزاد والراحلۃ أن تکون لہ مال فاضل عن حاجتہ الأصلیۃ وھو ما سوی سکنہ ۔۔۔ وسویٰ ما یقضی بہ دیونہ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب المناسک ج:۱ ص:۲۱۷، کتاب المناسک)۔
  3. (۳) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لمن حج عن أبویہ أو قضٰی عنھما مَغْرمًا بعث یوم القیامۃ مع الأبرار۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۶۰۹، باب الحج عن الغیر، مطلب العمل علی القیاس دون الْإستحسان)۔
  4. (۴) الأصل أن کل من أتی بعبادۃ مَّا لہ جعل ثوابھا لغیرہ وفی الشامیۃ (قولہ بعبادۃ ما) أی سواءً کانت صلاۃ ۔۔۔ أو طوافًا أو حجًّا أو عمرۃ، ۔۔۔ قولہ لغیرہ أی من الأحیاء والأموات ۔۔۔ إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۵۹۵، ۵۹۶)۔