حجِبدل
میّتکیطرفسےحجِبدلکرسکتےہیں
سوال:۔
ایک متوفی پر حج فرض تھا، مگر وہ حج ادا نہ کرسکا، اب اس کی طرف سے کوئی دُوسرا شخص حج ادا کرسکتا ہے؟
جواب:۔
میّت کی طرف سے حجِ بدل کرسکتے ہیں، اگر اس نے وصیت کی تھی تو اس کے تہائی ترکہ سے اس کا حجِ بدل ادا کیا جائے گا، اور اگر تہائی سے ممکن نہ ہو تو پھر اگر سب ورثاء بالغ اور حاضر ہوں اور کل مال سے حجِ بدل کی اجازت دے دیں تو کل مال سے بھی اس صورت میں ادا کیا جاسکتا ہے۔(۱) اور اگر اس نے وصیت نہیں کی تھی تو پھر ورثاء کی صوابدید اور رضا پر ہے، بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس صورت میں بھی اس کا حج قبول فرماکر اس کے گناہوں کو معاف فرمائے۔(۲)
- (۱) اشترط الحنفیۃ عشرین شرطًا للحج عن الغیر نذکرھا ۔۔۔ ۱۲: ان یحج النائب عن الأصیل من وطنہ إن اتسع ثلث الترکۃ فی حالۃ الوصیۃ بالحج، وإن لم یتسع یحج عنہ من حیث یبلغ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۳ ص:۴۹، ۵۵)۔
- (۲) قلت: وقدمنا أن الوارث لیس لہ الحج بمال المیت إلّا أن تجیز الورثۃ وھم کبار، لأن ھٰذا مثل التبرع بالمال۔ (فتاویٰ شامی، باب الحج عن الغیر ج:۲ ص:۶۰۶)۔ أیضًا: لو مات رجل بعد وجوب الحج ولم یوص بہ فحج رجل عنہ أو حج عن أبیہ أو أمّہ عن حجۃ الْإسلام من غیر وصیۃ قال أبوحنیفۃ: یجزیہ إن شاء اللہ ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۶۰۰)۔ ولو أوصی المیت أن یحج عنہ ولم یزد کان للوارث أن یحج عنہ، فإن کان الوصی وارث المیت أو دفع المال إلٰی وارث المیت لیحج عن المیت فإن أجازت الورثۃ وھم کبار جاز وإلّا فلا لأن ھٰذہ بمنزلۃ التبرع بالمال۔ (فتاویٰ حامدیۃ ج:۱ ص:۱۴)۔

