بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

بغیر‌وصیت‌کے‌حجِ‌بدل‌کرنا

سوال:۔

حجِ بدل میں کسی کی وصیت نہیں ہے، کوئی آدمی اپنی مرضی سے مرحوم ماں، باپ، پیر، اُستاد یعنی کسی کی طرف سے حجِ بدل کرتا ہے، اِستطاعت بھی ہے، آیا وہ صرف حج ادا کرسکتا ہے؟ اور وہ قربانی بھی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے؟ وضاحت فرماکر مشکور فرمائیں۔

جواب:۔

اگر وصیت نہ ہو تو جیسا حج چاہے کرسکتا ہے، وہ حجِ بدل نہیں ہوگا، بلکہ برائے ایصالِ ثواب ہوگا، جس کا ثواب اللہ تعالیٰ اس کو پہنچادے گا جس کی طرف سے وہ کیا گیا ہے۔ قربانی بھی اسی طرح برائے ایصالِ ثواب کی جاسکتی ہے۔(۱)

  1. (۱) وأیضًا: باب الحج عن الغیر، الأصل أن کل من أتی بعبادۃ مَّا لہ جعل ثوابھا لغیرہ، وفی الشامیۃ (قولہ بعبادۃ ما) أی سواء کانت صلاۃ أو صومًا أو صدقۃ ۔۔۔ أو حجًّا أو عمرۃ أو غیرہ ذٰلک ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع رد المحتار ج:۲ ص:۵۹۵)۔ أیضًا: عن أنس رضی اللہ عنہ قال: یا رسول اللہ ! إنا نتصدق عن موتانا ونحج عنھم وندعوا لھم، فھل یصل ذٰلک لھم؟ قال: نعم! انہ لیصل إلیھم، وإنھم لیفرحون بہ کما یفرح أحدکم بالطبق إذا أھدیٰ إلیہ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۵۹۶، باب الحج عن الغیر)۔ أیضًا: الحج النفل عن الغیر، ھٰذہ الشرائط (أی المتقدمۃ) کلھا عند الحنفیۃ فی الحج الفرض، أما الحج النفل عن الغیر، فلا یشترط فیہ شیء منھا إلّا الْإسلام، والعقل، والتمیز ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ، کتاب الحج ج:۳ ص:۵۶)۔