بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

حجِ‌بدل‌کس‌کی‌طرف‌سے‌کرانا‌ضروری‌ہے؟

سوال:۔

حجِ بدل جس کے لئے کرنا ہے آیا اس پر یعنی مرحوم پر حج فرض ہو، تب حجِ بدل کیا جائے یا جس مرحوم پر حج فرض نہ ہو اس کی طرف سے بھی کرنا ہوتا ہے؟

جواب:۔

جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی حصے سے حج کرایا جاسکتا ہو، اور اس نے حجِ بدل کرانے کی وصیت بھی کی ہو تو اس کی طرف سے حجِ بدل کرانا اس کے وارثوں پر فرض ہے۔(۱)

جس شخص کے ذمہ حج فرض تھا، مگر اس نے اتنا مال نہیں چھوڑا یا اس نے حجِ بدل کرانے کی وصیت نہیں کی، اس کی طرف سے حجِ بدل کرانا وارثوں پر لازم نہیں۔ لیکن اگر وارث اس کی طرف سے خود حجِ بدل کرے یا کسی دُوسرے کو حجِ بدل کے لئے بھیج دے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید کی جاتی ہے کہ مرحوم کا حجِ فرض ادا ہوجائے گا۔(۲)

اور جس شخص کے ذمہ حج فرض نہیں، اگر وارث اس کی طرف سے حجِ بدل کریں یا کرائیں تو یہ نفلی حج ہوگا اور مرحوم کو اس کا ثواب ان شاء اللہ ضرور پہنچے گا۔(۳)

  1. (۱) وإن مات عن وصیۃ لَا یسقط الحج عنہ، ویجب أن یحج عنہ، لأن الوصیۃ بالحج قد صحت، وإذا حج عنہ یجوز عند إستجماع شرائط الجواز ۔۔۔ ویحج عنہ من ثلث مالہ سواء قید الوصیۃ بأن یحج عنہ بثلث مالہ أو أطلق بأن أوصٰی أن یحج عنہ۔ (البدائع الصنائع، فصل وأما بیان حکم فوات الحج عن العمرۃ ج:۲ ص:۲۲۲، طبع ایچ ایم سعید)۔ أیضًا: وإن مات عن وصیۃ لَا یسقط الحج عنہ، وإذا حج عنہ یجوز عندنا بإستجماع شرائط الجواز۔ (الفتاوی العالمگیریۃ، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر فی الوصیۃ بالحج ج:۲ ص:۲۵۸ طبع رشیدیہ)۔
  2. (۲) لو مات رجل بعد وجوب الحج ولم یوص بہ فحج رجل عنہ أو حج عن أبیہ أو أمّہ عن حجۃ الْإسلام من غیر وصیۃ قال أبوحنیفۃ: یجزیہ إن شاء اللہ ۔۔۔ لأنہ إیصال للثواب، وھو لَا یختص بأحد من قریب أو بعید۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۶۰۰، باب الحج عن الغیر، البدائع الصنائع، کتاب الحج ج:۲ ص:۲۲۱)۔ أیضًا: ومن مات وعلیہ فرض الحج، ولم یوص بہ، لم یلزم الوارث ان یحج عنہ وإن أحب أن یحج عنہ، حَجَّ۔ وأرجوا أن یجزیہ إن شاء اللہ تعالٰی۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ، کتاب المناسک، الوصیۃ بالحج ج:۲ ص:۵۶۴ طبع إدارۃ القرآن، البدائع ج:۲ ص:۲۲۱)۔
  3. (۳) الأصل أن کل من أتی بعبادۃ مالہ جعل ثوابھا لغیرہ۔ وفی رد المحتار: قولہ بعبادۃ ما، أی سواء کانت صلاۃ أو صومًا أو صدقۃ أو قرائۃ أو ذکرًا أو طوافًا أو حجًّا أو عمرۃ أو غیر ذالک ۔۔۔ لأنھا تصل إلیھم ولَا ینقص من أجرہ شیء ۔۔۔ وبحث أیضًا أن الظاھر أنہ لَا فرق بین أن ینوی بہ عند الفعل للغیر أو یفعلہ لنفسہ ثم یجعل ثوابہ لغیرہ لِإطلاق کلامھم۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۵۹۵، باب الحج عن الغیر، مطلب فی إھداء ثواب الأعمال للغیر)۔