بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

حجِ‌بدل‌کون‌کرسکتا‌ہے؟

سوال:۔

حجِ بدل کون شخص ادا کرسکتا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حجِ بدل صرف وہ آدمی کرسکتا ہے جس نے اپنا حج ادا کرلیا ہو، اگر کسی کے ذمہ حج فرض نہیں تو کیا وہ شخص حجِ بدل ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب:۔

حنفی مسلک کے مطابق جس نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کا کسی کی طرف سے حجِ بدل کرنا جائز ہے، مگر مکروہ ہے۔(۱)

  1. (۱) والذی یقتضیہ النظر ان حج الصرورۃ (الذی لم یحج عن نفسہ) عن غیرہ ۔۔۔ فھو مکروہ کراھۃ تحریم ۔۔۔ ومع ذٰلک یصح لأن النھی لیس لعین الحج ۔۔۔ قال فی البحر: والحق انھا تنزیھیۃ علی الآمر۔ (فتاویٰ شامی، مطلب فی حج الصرورۃ ج:۲ ص:۶۰۳)۔ أیضًا: ثم المصنف رحمہ اللہ تعالٰی لم یقید الحاج عن الغیر بشیء یفید انہ یجوز إحجاج الصرورۃ وھو الذی لم یحج أوّلًا عن نفسہ، لٰـکنہ مکروہ کما صرحوا بہ ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق، کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، ج:۳ ص:۱۲۳ طبع رشیدیہ)۔