بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

حجِ‌بدل‌کا‌جواز

سوال:۔

میں ایک بہت ضروری بات کے لئے ایک مسئلہ پوچھ رہی ہوں، میں نے اپنے والد صاحب کا حجِ بدل کیا تھا، ایک صاحب نے فرمایا کہ حجِ بدل تو کوئی چیز نہیں ہے، اور یہ ناجائز ہے، کیونکہ قرآن شریف میں حجِ بدل کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جب سے ان صاحب سے یہ بات سنی ہے میرا دِل بہت پریشان ہے کہ میرا روپیہ ضائع ہوا اور میں بہت بے چین ہوں۔ آپ کے جواب کی بے چینی سے منتظر ہوں تاکہ میری فکر دُور ہو۔

جواب:۔

حجِ بدل صحیح ہے، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اور جو صاحب یہ کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں چونکہ حجِ بدل نہیں، اس لئے حجِ بدل ہی کوئی چیز نہیں ہے، ان کی بات لغو اور بے کار ہے۔ حجِ بدل پر صحیح احادیث موجود ہیں،(۱) اور اُمت کا اس کے صحیح ہونے پر اجماع ہے۔(۲)

  1. (۱) أتی رجل النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: إنّ اُختی نذرت أن تحج وانھا ماتت، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لو کان علیھا دین أکنتَ قاضیہ؟ قال: نعم! قال: فاقض دَین اللہ فھو أحق بالقضاء۔ (مشکٰوۃ ص:۲۲۱، کتاب المناسک)۔
  2. (۲) والحاصل أن من قدر علی الحج وھو صحیح ثم عجز لزمہ الْإحجاج إتفاقًا۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۵۹۸)۔