حجِبدل
حجِبدلکیشرعیحیثیت
سوال:۔
حجِ بدل سے کیا مراد ہے؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔
حج کی تین صورتیں ہیں:
۱:۔ کوئی آدمی اتنا کمزور ہے کہ وہ خود حج پر نہیں جاسکتا، اس کے پاس مال اتنا ہے کہ حج اس کے ذمے فرض ہے، تو اس کے ذمے لازم ہے کہ کسی دُوسرے آدمی کو اپنی جگہ حجِ بدل پر بھیجے۔(۱)
۲:۔ ایک آدمی کے ذمے حج فرض تھا، اس نے اپنی زندگی میں نہیں کیا، لیکن مرنے سے پہلے وصیت کردی کہ میرا حج کرادینا، اور تہائی مال میں اتنی گنجائش ہے کہ اس کا حج ہوسکتا ہے، تو جو شخص ایسی وصیت کرکے جائے، اس کے وارثوں کے ذمے لازم ہے کہ اس کا حجِ بدل کروائیں۔(۲)
۳:۔ ایک شخص نے وصیت تو نہیں کی، لیکن اتنا مال چھوڑا ہے کہ اس کا حجِ بدل ہوسکتا ہے، تو وارث اگر اس کا حجِ بدل کرادیں، تو اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا حجِ بدل قبول فرمالیں گے۔(۳) اسی طرح اگر کسی نے مال تو نہیں چھوڑا، لیکن اس کی اولاد اور دُوسرے وارث ماشاء اللہ صاحبِ حیثیت ہیں اور حجِ بدل کروادیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ اس کا حج قبول فرمائیں۔(۴)
- (۱) قال الحنفیۃ: من لم یجب علیہ الحج بنفسہ لعذر کالمریض ونحوہ، ولہ مال، یلزمہ أن یحج رجلًا عنہ۔ ویجرأہ عن حجۃ الْإسلام۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ، کتاب الحج، مشروعیۃ النیابۃ فی الحج ج:۳ ص:۴۰، ۴۱)۔
- (۲) وإن مات عن وصیۃ لَا یسقط الحج عنہ وإذا حج عنہ یجوز عندنا باستجماع شرائط الجواز، وھی نیۃ الحج وأن یکون بمال الموصی ۔۔۔ ویحج عنہ من ثلث مالہ سواء قید الوصیۃ بالثلث ۔۔۔ أو أطلق بأن أوصٰی أن یحج عنہ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۸، کتاب الحج، الباب الخامس عشر، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
- (۳) من علیہ الحج إذا مات قبل أدائہ فإن مات عن غیر وصیۃ یأثم بلا خلاف، وإن أحب الوارث أن یحج عنہ، حج وأرجو أن یجزئہ ذٰلک إن شاء اللہ تعالٰی۔ (فتاویٰ عالمگیری، کتاب الحج، الباب الخامس عشر ج:۱ ص:۲۵۸، طبع رشیدیہ)۔
- (۴) أیضًا۔

