بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حجِ‌بدل

حجِ‌بدل‌کی‌شرائط

سوال:۔

حجِ بدل کی کیا شرائط ہیں؟ کیا سعودی عرب میں ملازم شخص، کسی پاکستانی کی طرف سے حج کرسکتا ہے یا کہ نہیں؟

جواب:۔

جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے ادائیگیٔ حج کے لئے وصیت بھی کی تھی تو اس کا حجِ بدل اس کے وطن سے ہوسکتا ہے، سعودی عرب سے جائز نہیں ہے۔(۱) البتہ اگر بغیر وصیت کے یا بغیر فرضیت کے کوئی شخص اپنے عزیز کی جانب سے حجِ بدل کرتا ہے تو وہ حج نفل برائے ایصالِ ثواب ہے، وہ ہر جگہ سے صحیح ہے۔(۲)

  1. (۱) (سئل) فی الحاج عن الغیر ھل الأفضل فی حقہ أن یعود إلٰی بلد آمرہ؟ (الجواب) نعم علی الأظھر، فیکون أداؤہ علی طبق أداء المیت لو فرض أداؤہ، فإن الغالب منہ أنہ کان یعود إلٰی بلدہ، والمسئلۃ فی مناسک القاری۔ (الفتاویٰی تنقیح الحامدیۃ، کتاب الحج ج:۱ ص:۱۴ طبع ایچ ایم سعید)۔ وأیضًا: الحادی عشر أن یحج عنہ من وطنہ إن اتسع الثلث ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی، مطلب شروط الحج، ج:۲ ص:۶۰۰، أیضًا الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۳ ص:۵۵)۔
  2. (۲) الحج النفل عن الغیر: ھٰذہ الشرائط کلھا عند الحنفیۃ فی الحج الفرض، اما الحج النفل عن الغیر، فلا یشترط فیہ شیء منھا إلّا الْإسلام والعقل والتمیز۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۳ ص:۵۶، الحج النفل عن الغیر)۔