حجوعمرہکیاِصطلاحات
حجکےمہینوں(شوال،ذیقعدہ،ذیالحجہ)میںعمرہکرنےوالےپرحج
سوال:۔
شوال، ذیقعدہ اور ذی الحجہ، اَشہر الحج ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اگر ان مہینوں میں کوئی شخص عمرہ ادا کرتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ حج بھی ادا کرے، اگر ہم شوال یا ذیقعدہ کے مہینے میں عمرہ ادا کرکے واپس الریاض آجائیں (یعنی حدودِ حرم سے باہر آجائیں) اور دوبارہ حج کے موقع پر جائیں تو اس وقت نیت حجِ تمتع کی ہوگی یا حجِ مفرَد کی؟ حجِ تمتع کے لئے دوبارہ عمرہ کی ضرورت ہوگی یا پہلا عمرہ ہی کافی ہوگا؟
جواب:۔
آفاقی شخص اگر اَشہر الحج میں عمرہ کرکے اپنے وطن کو لوٹ جائے تو دوبارہ اس کو حج یا عمرہ کے لئے آنا ضروری نہیں، اور اگر وہ اسی سال حج بھی کرے تو اس پہلے عمرہ کی وجہ سے متمتع نہیں ہوگا، نہ اس کے ذمہ تمتع کا دَم لازم ہوگا، اگر ایسا شخص تمتع کرنا چاہتا ہے تو اس کو دوبارہ عمرہ کا اِحرام باندھ کر آنا ہوگا۔(۱)
- (۱) ومعنی التمتع الترفق بأداء النسکین فی سفر واحد من غیر أن یلم بأھلہ بینھما إلمامًا صحیحًا وفی الفتح: فتحریر الضابط للمتمتع أن یفعل العمرۃ أو أکثر طوافھا فی أشھر الحج عن إحرام قبلھا أو فیھا ثم حج من عامۃ بوصف الصحۃ من غیر أن یلم بأھلہ بینھما إلمامًا صحیحًا۔ (فتح القدیر، کتاب الحج، باب التمتع، ج:۲ ص:۲۱۰، ۲۱۱)۔

