حجوعمرہکیاِصطلاحات
حجِتمتعکاطریقہ
سوال:۔
ہم دونوں بہت پریشان ہیں، جب سے آپ کا مشورہ مسئلے کے ماتحت آیا تھا کہ حاجی حضرات کو چاہئے کہ علمائے دین سے سیکھ کر حج کریں، اس لئے آپ سے ہم پوچھ رہے ہیں کہ آپ ذرا بتادیں تمتع کا طریقہ کہ وہ پانچ دن حج کے کیسے گزاریں مع مسنون طریقے کے، اور کون سے عمل کو چھوڑنے پر دَم آتا ہے؟ اس کو بھی وضاحت سے بتلائیں۔
جواب:۔
تمتع کا طریقہ یہ ہے کہ آپ میقات سے پہلے (بلکہ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے) صرف عمرہ کا اِحرام باندھ لیں، مکہ مکرّمہ پہنچ کر عمرہ کے ارکان (طواف اور سعی) ادا کرکے اِحرام کھول دیں، اب آپ پر اِحرام کی کوئی پابندی نہیں۔ ۸؍ذوالحجہ کو منیٰ جانے سے پہلے حج کا اِحرام باندھ لیں، اور عرفات و مزدلفہ سے واپس آکر ۱۰؍ذوالحجہ کو پہلے بڑے شیطان کی رمی کریں، پھر قربانی کریں، پھر بال صاف کراکر (اور عورت اُنگلی کے پورے کے برابر سر کے بال کاٹ لے) اِحرام کھول دیں، پھر طوافِ زیارت کے لئے بیت اللہ شریف جائیں اور طواف کے بعد حج کی سعی کریں، اور اگر منیٰ جانے سے پہلے اِحرام باندھ کر نفلی طواف کرلیا اور اس کے بعد حج کی سعی پہلے کرلی تو یہ بھی جائز ہے۔(۱)
- (۱) وصفتہ (أی التمتع) أن یبتدیٔ من المیقات فی أشھر الحج فیحرم بالعمرۃ ویدخل مکۃ فیطوف لھا ویسعٰی لھا ویحلق أو یقصر وقد حل من عمرتہ ۔۔۔ ویقطع التلبیۃ إذا إبتداء بالطواف ۔۔۔ ویقیم بمکۃ حلالًا لأنہ حل من العمرۃ، قال: فإذا کان یوم الترویۃ أحرم بالحج من المسجد، والشرط أن یحرم من الحرم ۔۔۔ وفعل ما یفعلہ الحاج المفرد ۔۔۔ وعلیہ دم التمتع۔ (فتح القدیر مع الھدایۃ ج:۲ ص:۲۱۰ تا ۲۱۲)۔ وأیضًا: أما الْإحرام بالعمرۃ فی الحج فھو التمتع، وصورتہ أن یحرم بالعمرۃ فی أشھر الحج (شوال وذی القعدۃ وعشرۃ من ذی الحجۃ) ویأتی بأفعال العمرۃ فإذا حلّ من عمرتہ یقیم بمکۃ حلالًا من غیر أن یرجع إلٰی أھلہ، ثم یحرم بالحج من المسجد فی یوم الترویۃ ویفعل ما یفعل الحاج المفرد، وعلیہ دم التمتع ۔۔۔إلخ۔ (خزانۃ الفقہ ص:۸۹، کتاب الحج، الْإحرام بعمرۃ فی الحج)۔

