بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌اِصطلاحات

حج‌کے‌اقسام‌کی‌تفصیل‌اور‌اَسہل‌حج

سوال:۔

میں نے کسی مولانا سے سنا ہے کہ حج کی اقسام تین ہیں، نمبر۱: قران، نمبر۲:تمتع، نمبر۳:اِفراد۔ پوچھنا یہ ہے کہ ان تینوں کی تعریف کیا ہے؟ یہ کس قسم کے حج ہوتے ہیں؟ اور ان میں اَفضل و اَسہل حج کون سا ہے؟ جس پر حج فرض ہے وہ کون سا ادا کرے؟ براہِ مہربانی تفصیل سے تینوں کے اَحکام بھی واضح فرمائیں۔

جواب:۔

حجِ قران یہ ہے کہ میقات سے گزرتے وقت حج اور عمرہ دونوں کا اِکٹھا اِحرام باندھا جائے، پہلے عمرہ کے افعال ادا کئے جائیں، پھر حج کے ارکان ادا کئے جائیں، اور ۱۰؍ذوالحجہ کو رمی اور قربانی کے بعد دونوں کا اِحرام اِکٹھا کھولا جائے۔(۱)

حجِ تمتع یہ ہے کہ میقات سے عمرہ کا اِحرام باندھا جائے، اور عمرہ کے افعال ادا کرکے اِحرام کھول دیا جائے، اور آٹھویں تاریخ کو حج کا اِحرام باندھا جائے اور ۱۰؍ذوالحجہ کو رمی اور قربانی کے بعد اِحرام کھول دیا جائے۔(۲)

حجِ اِفراد یہ ہے کہ میقات سے صرف حج کا اِحرام باندھا جائے اور ۱۰؍ذوالحجہ کو رمی کے بعد اِحرام کھول دیا جائے، (اس صورت میں قربانی واجب نہیں)۔(۳)

پہلی صورت افضل ہے، اور دُوسری اَسہل ہے، اور دُوسری صورت، تیسری سے افضل بھی ہے اور اَسہل بھی، جس شخص پر حج فرض ہو اس کے لئے بھی یہی ترتیب ہے۔(۴)

  1. (۱) باب القِران ۔۔۔ قولہ: وصفۃ القِران أن یھل بالعمرۃ والحج معًا من المیقات، قدم العمرۃ لأن اللہ تعالٰی قدمھا بقولہ: ﵟ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلۡعُمۡرَةِ إِلَى ٱلۡحَجِّ ﵞولأن أفعالھا متقدمۃ علٰی أفعال الحج۔ (الجوھرۃ النیرۃ، باب القِران ج:۱ ص:۱۶۷)۔ أمّا الْإحرام بحجۃ وعمرۃ فھو أن یقول عند المیقات اللّٰھم ۔۔۔ فیؤدیھما جمیعًا بإحرام واحد، ثم یذبح شاۃ بعد الرمی من جمرۃ العقبۃ فی یوم النحر أو من یوم الغد ۔۔۔إلخ۔ (خزانۃ الفقہ، کتاب المناسک والحج ص:۸۸)
  2. (۲) التمتع لغۃ الجمع بین العمرۃ والحج بإحرامین ۔۔۔ وھو أن یحرم بعمرۃ من المیقات أو قبلہ فی أشھر الحج ویطوف ۔۔۔ ولیسعٰی ویحلق أو یقصر کالمفرد بالعمرۃ، ویقطع التلبیۃ فی أوَّل طوافہ ۔۔۔ ثم یحرم بالحج من الحرم إن کان بمکۃ أو من الحل إن کان بالمواقیت ۔۔۔ یوم الترویۃ وحج کالمفرد ۔۔۔ وذبح بعد الرمی فی أیام النحر ۔۔۔إلخ۔ (جامع رموز الروایۃ فی شرح مختصر الوقایۃ، کتاب الحج، ج:۲ ص:۴۱۸ طبع مکتبہ اسلامیہ گنبد قابوس ایران)۔
  3. (۳) کیفیۃ الْإفراد: الْإفراد أن یحرم بالحج وحدہ، ثم لَا یعتمر حتّٰی لَا یفرغ من حجہ ۔۔۔إلخ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ، کتاب الحج ج:۳ ص:۲۱۵ طبع دار الفکر)۔
  4. (۴) القِران عندنا أفضل من التمتع والْإفراد ۔۔۔ قال رحمہ اللہ : التمتع عندنا أفضل من الْإفراد ھٰذا ھو الصحیح۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۶۷، ۱۶۹، کتاب الحج، طبع مجتبائی دہلی)۔