بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌و‌عمرہ‌کی‌اِصطلاحات

حج کے مسائل میں مستعمل عربی الفاظ

(حج کے مسائل میں بعض عربی الفاظ استعمال ہوتے ہیں، بعض احباب کا تقاضا ہے کہ شروع میں ان کے معنی لکھ دئیے جائیں، اس لئے ’’معلّم الحجاج‘‘(۱) سے نقل کرکے چند الفاظ کے معنی لکھے جاتے ہیں۔)

اِستلام:۔ حجرِ اَسود کو بوسہ دینا اور ہاتھ سے چھونا یا حجرِ اَسود اور رُکنِ یمانی کو صرف ہاتھ لگانا۔(۲)

اِضطباع:۔ اِحرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا۔(۳)

آفاقی:۔ وہ شخص ہے جو میقات کی حدود سے باہر رہتا ہو، جیسے ہندوستانی، پاکستانی، مصری، شامی، عراقی اور ایرانی وغیرہ۔(۴)

اَیامِ تشریق:۔ ذوالحجہ کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ’’اَیامِ تشریق‘‘ کہلاتی ہیں۔(۵) کیونکہ ان میں بھی (نویں اور دسویں ذوالحجہ کی طرح) ہر نمازِ فرض کے بعد ’’تکبیرِ تشریق‘‘ پڑھی جاتی ہے، یعنی: ’’اللّٰهُ أَکْبَرُ، اللّٰهُ أَکْبَرُ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَکْبَرُ، اللّٰهُ أَکْبَرُ، وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘۔

اَیامِ نحر:۔ دس ذی الحجہ سے بارہویں تک۔(۶)

اِفراد:۔ صرف حج کا اِحرام باندھنا اور صرف حج کے افعال کرنا۔(۷)

تسبیح:۔ ’’سبحان اﷲ‘‘ کہنا۔(۸)

تمتع:۔ حج کے مہینوں میں پہلے عمرہ کرنا پھر اسی سال میں حج کا اِحرام باندھ کر حج کرنا۔(۹)

تلبیہ:۔ لبیک پوری پڑھنا۔(۱۰)

تہلیل:۔ ’’لَا اِلٰہ الّا اﷲ‘‘ پڑھنا۔(۱۱)

جمرات یا جمار:۔ منیٰ میں تین مقام ہیں جن پر قدِ آدم ستون بنے ہوئے ہیں، یہاں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں۔ ان میں سے جو مسجدِ خیف کے قریب مشرق کی طرف ہے اس کو ’’جمرۃ الاُولیٰ‘‘ کہتے ہیں، اور اس کے بعد مکہ مکرّمہ کی طرف بیچ والے کو ’’جمرۃ الوسطیٰ‘‘، اور اس کے بعد والے کو ’’جمرۃ الکبریٰ‘‘ اور ’’جمرۃ العقبہ‘‘ اور ’’جمرۃ الاُخریٰ‘‘ کہتے ہیں۔(۱۲)

رَمل:۔ طواف کے پہلے تین پھیروں میں اکڑ کر شانہ ہلاتے ہوئے قریب قریب قدم رکھ کر ذرا تیزی سے چلنا۔(۱۳)

رَمی:۔ کنکریاں پھینکنا۔(۱۴)

زم زم:۔ مسجدِ حرام میں بیت اللہ کے قریب ایک مشہور چشمہ ہے جو اَب کنویں کی شکل میں ہے، جس کو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اپنے نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ کے لئے جاری کیا تھا۔(۱۵)

سعی:۔ صفا اور مروہ کے درمیان مخصوص طریق سے سات چکر لگانا۔(۱۶)

شوط:۔ ایک چکر بیت اللہ کے چاروں طرف لگانا۔(۱۷)

صفا:۔ بیت اللہ کے قریب جنوبی طرف ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس سے سعی شروع کی جاتی ہے۔(۱۸)

طواف:۔ بیت اللہ کے چاروں طرف سات چکر مخصوص طریق سے لگانا۔(۱۹)

عمرہ:۔ حِلّ یا میقات سے اِحرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنا۔(۲۰)

عرفات یا عرفہ:۔ مکہ مکرّمہ سے تقریباً ۹ میل مشرق کی طرف ایک میدان ہے جہاں پر حاجی لوگ نویں ذی الحجہ کو ٹھہرتے ہیں۔(۲۱)

قران:۔ حج اور عمرہ دونوں کا اِحرام ایک ساتھ باندھ کر پہلے عمرہ کرنا پھر حج کرنا۔(۲۲)

قارِن:۔ قران کرنے والا۔

قرن:۔ مکہ مکرّمہ سے تقریباً ۴۲ میل پر ایک پہاڑ ہے، نجد، یمن اور نجد حجاز اور نجد تہامہ سے آنے والوں کی میقات ہے۔(۲۳)

قصر:۔ بال کتروانا۔(۲۴)

محرِم:۔ اِحرام باندھنے والا۔(۲۵)

مفرِد:۔ حج کرنے والا، جس نے میقات سے اکیلے حج کا اِحرام باندھا ہو۔(۲۶)

میقات:۔ وہ مقام جہاں سے مکہ مکرّمہ جانے والے کے لئے اِحرام باندھنا واجب ہے۔(۲۷)

جحفہ:۔ رابغ کے قریب مکہ مکرّمہ سے تین منزل پر ایک مقام ہے، شام سے آنے والوں کی میقات ہے۔(۲۸)

جنّت المَعْلٰی:۔ مکہ مکرّمہ کا قبرستان۔

جبلِ رَحمت:۔ عرفات میں ایک پہاڑ ہے۔(۲۹)

حجرِ اَسود:۔ سیاہ پتھر، یہ جنت کا پتھر ہے، جنت سے آنے کے وقت دُودھ کی مانند سفید تھا، لیکن بنی آدم کے گناہوں نے اس کو سیاہ کردیا۔ یہ بیت اللہ کے مشرقی جنوبی گوشے میں قدِ آدم کے قریب اُونچائی پر بیت اللہ کی دیوار میں گڑا ہوا ہے، اس کے چاروں طرف چاندی کا حلقہ چڑھا ہوا ہے۔(۳۰)

حرم:۔ مکہ مکرّمہ کے چاروں طرف کچھ دُور تک زمین ’’حرم‘‘ کہلاتی ہے، اس کی حدود پر نشانات لگے ہوئے ہیں، اس میں شکار کھیلنا، درخت کاٹنا، گھاس جانور کو چرانا حرام ہے۔(۳۱)

حِلّ:۔ حرم کے چاروں طرف میقات تک جو زمین ہے اس کو ’’حل‘‘ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں وہ چیزیں حلال ہیں جو حرم کے اندر حرام تھیں۔(۳۲)

حلق:۔ سر کے بال منڈانا۔(۳۳)

حطیم:۔ بیت اللہ کی شمالی جانب بیت اللہ سے متصل قدِ آدم دیوار سے کچھ حصہ زمین کا گھرا ہوا ہے، اس کو ’’حطیم‘‘ اور ’’حظیرہ‘‘ بھی کہتے ہیں۔(۳۴) جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوّت ملنے سے ذرا پہلے جب خانۂ کعبہ کو قریش نے تعمیر کرنا چاہا تو سب نے یہ اتفاق کیا کہ حلال کمائی کا مال اس میں صَرف کیا جائے، لیکن سرمایہ کم تھا اس وجہ سے شمال کی جانب اصل قدیم بیت اللہ میں سے تقریباً چھ گز شرعی جگہ چھوڑ دی، اس چھٹی ہوئی جگہ کو ’’حطیم‘‘ کہتے ہیں۔(۳۵) اصل ’’حطیم‘‘ چھ گز شرعی کے قریب ہے، اب کچھ احاطہ زائد بنا ہوا ہے۔

دَم:۔ اِحرام کی حالت میں بعضے ممنوع افعال کرنے سے بکری وغیرہ ذبح کرنی واجب ہوتی ہے، اس کو ’’دَم‘‘ کہتے ہیں۔(۳۶)

ذوالحلیفہ:۔ یہ ایک جگہ کا نام ہے، مدینہ منوّرہ سے تقریباً چھ میل پر واقع ہے، مدینہ منوّرہ کی طرف سے مکہ مکرّمہ آنے والوں کے لئے میقات ہے، اسے آج کل ’’بیر علی‘‘ کہتے ہیں۔(۳۷)

ذات عرق:۔ ایک مقام کا نام ہے جو آج کل ویران ہوگیا، مکہ مکرّمہ سے تقریباً تین روز کی مسافت پر ہے، عراق سے مکہ مکرّمہ آنے والوں کی میقات ہے۔(۳۸)

رُکنِ یمانی:۔ بیت اللہ کے جنوب مغربی گوشے کو کہتے ہیں، چونکہ یہ یمن کی جانب ہے۔(۳۹)

مطاف:۔ طواف کرنے کی جگہ جو بیت اللہ کے چاروں طرف ہے اور اس میں سنگِ مرمر لگا ہوا ہے۔

مقامِ ابراہیم:۔ جنتی پتھر ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پر کھڑے ہوکر بیت اللہ کو بنایا تھا، مطاف کے مشرقی کنارے پر منبر اور زم زم کے درمیان ایک جالی دار قبے میں رکھا ہوا ہے۔(۴۰)

ملتزم:۔ حجرِ اَسود اور بیت اللہ کے دروازے کے درمیان کی دیوار جس پر لپٹ کر دُعا مانگنا مسنون ہے۔(۴۱)

مسجدِ خیف:۔ منیٰ کی بڑی مسجد کا نام ہے، جو منیٰ کی شمالی جانب میں پہاڑ سے متصل ہے۔(۴۲)

مسجدِ نمرہ:۔ عرفات کے کنارے پر ایک مسجد ہے۔

مدعی:۔ دُعا مانگنے کی جگہ، مراد اس سے مسجدِ حرام اور مکہ مکرّمہ کے قبرستان کے درمیان ایک جگہ ہے جہاں دُعا مانگنی مکہ مکرّمہ میں داخل ہونے کے وقت مستحب ہے۔

مزدلفہ:۔ منیٰ اور عرفات کے درمیان ایک میدان ہے جو منیٰ سے تین میل مشرق کی طرف ہے۔(۴۳)

محسّر:۔ مزدلفہ سے ملا ہوا ایک میدان ہے جہاں سے گزرتے ہوئے دوڑ کر نکلتے ہیں، اس جگہ اصحابِ فیل پر جنھوں نے بیت اللہ پر چڑھائی کی تھی عذاب نازل ہوا تھا۔(۴۴)

مروہ:۔ بیت اللہ کے شرقی شمالی گوشے کے قریب ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس پر سعی ختم ہوتی ہے۔(۴۵)

میلین اخضرین:۔ صفا اور مروہ کے درمیان مسجدِ حرام کی دیوار میں دو سبز میل لگے ہوئے ہیں، جن کے درمیان سعی کرنے والے دوڑ کر چلتے ہیں۔(۴۶)

موقف:۔ ٹھہرنے کی جگہ، حج کے افعال میں اس سے مراد میدانِ عرفات یا مزدلفہ میں ٹھہرنے کی جگہ ہوتی ہے۔(۴۷)

میقاتی:۔ میقات کا رہنے والا۔

وقوف:۔ کے معنی ٹھہرنا، اور اَحکامِ حج میں اس سے مراد میدانِ عرفات یا مزدلفہ میں خاص وقت میں ٹھہرنا۔(۴۸)

ہدی:۔ جو جانور حاجی حرم میں قربانی کرنے کو ساتھ لے جاتا ہے۔(۴۹)

یومِ عرفہ:۔ نویں ذوالحجہ، جس روز حج ہوتا ہے اور حاجی لوگ عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔(۵۰)

یلملم:۔ مکہ مکرّمہ سے جنوب کی طرف دو منزل پر ایک پہاڑ ہے، اس کو آج کل ’’سعدیہ‘‘ بھی کہتے ہیں، یہ یمن اور ہندوستان اور پاکستان سے آنے والوں کی میقات ہے۔(۵۱)

(۱) معلم الحجاج ص:۷۳ تا ۷۹، مؤلفہ مولانا سعید احمد مظاہری، طبع مکتبہ تھانوی۔

(۲) (واستلمہ) أی مس الحجر بالید والقبلہ۔ (جامع الرموز ج:۲ ص:۴۵۵، طبع إیران)۔ وأیضًا: الْإستلام: صفتہ أن یضع کفیہ علی الحجر الأسود ویضع فمہ بین کفیہ یقبلہ من غیر صوت إن تیسّر وإلّا یمسحہ بالکف ویقبل کفہ بدل تقبیل الحجر کذا فی شرح المناسک۔ (قواعد الفقہ، التعریفات الفقھیۃ ص:۱۷۵، طبع صدف پبلشرز)۔

(۳) الْإضطباع: أن یجعل ردائہ تحت إبطہ الأیمن ویلقیہ علٰی کتفہٖ الأیسر۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۴۱، باب الْإحرام)

(۴) الآفاقی: أرید بہ الخارجی أی خارج المواقیت۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۴۶۸، مطلب فی فروض الحج وواجباتہ)۔

(۵) وأیّام النحر ثلاثۃ، وأیام التشریق ثلاثۃ ویمضی ذالک کلہ فی أربعۃ أیام، فالیوم العاشر من ذی الحجۃ للنحر خاصۃ، والیوم الثالث عشر للتشریق خاصۃً والیومان فیما بینھما للنحر والتشریق جمیعًا۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۷۶، فصل فی صلاۃ العیدین)۔

(۶) وأیّام النحر ثلاثۃ، وأیام التشریق ثلاثۃ ویمضی ذالک کلہ فی أربعۃ أیام، فالیوم العاشر من ذی الحجۃ للنحر خاصۃ، والیوم الثالث عشر للتشریق خاصۃً والیومان فیما بینھما للنحر والتشریق جمیعًا۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۷۶، فصل فی صلاۃ العیدین)۔

(۷) الْإفراد أن یحرم بالحج وحدہ۔ (الفقہ الْإسلامی وأدلّتہ ج:۳ ص:۲۱۵)۔

(۸) التسبیح: ھو ان یقول سبحان اللہ ۔ (قواعد الفقہ ص:۲۳۸)۔

(۹) التمتع ھو الجمع بین أفعال الحج والعمرۃ فی أشھر الحج فی سنۃ واحدۃ بإحرامین بتقدیم أفعال العمرۃ من غیر یلمَّ بأھلہ إلمامًا صحیحًا۔ (قواعد الفقہ ص:۲۳۷، وأیضًا ھدایۃ ج:۱ ص:۲۴۱)۔

(۱۰) التلبیۃ: ھی لبیک اللّٰھم لبیک، لَا شریک لک لبیک، إن الحمد والنعمۃ لک والملک، لَا شریک لک لبیک۔ (قواعد الفقہ ص:۲۳۵)۔ التلبیۃ: لبیک اللّٰھم لبیک، لبیک لَا شریک لک لبیک، إن الحمد والنعمۃ لک والملک لَا شریک لک۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۵۵، طبع مجتبائی دھلی)۔

(۱۱) التھلیل: ھو أن یقول لَا إلٰہ إلّا اللہ ، وھو مأخوذ من الھیلا۔ (قواعد الفقہ ص:۲۴۲، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔

(۱۲) الجِمار والجمرات: ھی الحصاۃ یعنی الصغار من الأحجار جمع الجمرۃ۔ وسموا المواضع التی ترمی جمارًا وجمرات۔ الجمار الثلاث: ھی العقبۃ والوسطیٰ والقصویٰ بمنٰی۔ (قواعد الفقہ ص:۲۵۱، طبع صدف)۔

(۱۳) الرمل بفتحتین سرعۃ المشی مع تقارب الخطی وھز الکفین مع الْإضطباع۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۵۸، طبع مجتبائی دھلی)۔ الرمل: فی الطواف ھو أن یمشی فی الطواف سریعًا ویھز فی مشیتہ الکتفین کالمبارزین بین الصفین۔ (قواعد الفقہ ص:۳۱۰، وکذا التعریفات ص:۹۹)۔

(۱۴) فرمی الجمار فی اللغۃ ھو القذف بالأحجار الصغار وھی الحصٰی۔ (البدائع الصنائع ج:۲ ص:۱۳۷)۔

(۱۵) زمزم: بیر عند الکعبۃ غیر منصرف، وماء زمزم أی کثیر۔ (قواعد الفقہ ص:۳۱۴)۔ وأیضًا: وزمزم: بئر مشہورۃ بمکۃ بجوار الکعبۃ یتبرک بھا ویشرب مائھا وینقل إلی الجھات۔ (المعجم الوسیط ج:۱ ص:۴۰۰)۔ نیز تفصیل کے لئے دیکھئے: فتح الباری، کتاب الأنبیاء ج:۶ ص:۳۹۶ تا ۴۰۷، طبع دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور پاکستان۔

(۱۶) السعی: الْإسراع فی المشی وھو دون العَدْو ۔۔۔ قال الراغب وخص السعی فیما بین الصفا والمروۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۳۲۲)۔

(۱۷) الشوط: ھو الجَری مرّۃً إلی الغایۃ ویراد بہ عند الفقھاء الطواف مرّۃً جمعہ أشواط۔ (قواعد الفقہ ص:۳۴۲)۔ وفی الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۵۸ فیطوف بالبیت سبعۃ أشواط، الشوط من الحجر إلی الحجر۔

(۱۸) ثم یخرج إلی الصفا فیصعد علیہ ۔۔۔ فیطوف سبعۃ أشواط یبدأ بالصفا ویختم بالمروۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۴۲-۲۴۳ کتاب الحج)۔

(۱۹) الطواف: لغۃ: الدوران حول الشیء، وشرعًا: ھو الدوران حول البیت الحرام۔ (قواعد الفقہ ص:۳۶۵)۔

(۲۰) العمرۃ، إسم من الْإعتمار، ھی لغۃً الزیارۃ والقصد إلٰی مکان عامر، وشرعًا قصد بیت اللہ بأفعال مخصوصۃ، وتسمّٰی بالحج الأصغر، وأفعالھا أربعۃ: الْإحرام، والطواف، والسعی، والحلق ۔۔۔إلخ۔ (قواعد الفقہ ص:۳۹۰)۔

(۲۱) المنجد ص:۶۴۵، وقواعد الفقہ ص:۳۷۸۔ العرفات: اسم للموقوف المعروف ویتمّ الحج بالوقوف بھا۔

(۲۲) صفۃ القِران، أن یھل بالعمرۃ والحج من المیقات، قدم العمرۃ لأن اللہ قدمھا ۔۔۔ ولأن أفعالھا متقدمۃ علٰی أفعال الحج۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۶۷، طبع دھلی)۔ وأیضًا: القِران ھو الجمع بین العمرۃ والحج بإحرام واحد فی سفر واحد۔ (قواعد الفقہ ص:۴۲۶)۔

(۲۳) والمواقیت ۔۔۔ ولأھل نجد قرن المنازل، بسکون الراء، مغرب علٰی مرحلتین من مکۃ، وفی الحاشیۃ(۲۴) تبعد عن مکۃ ۹۴ کیلومترًا وھو جبل شرقی مکۃ یُطلُّ علٰی عرفات۔ (اللباب فی شرح الکتاب، کتاب الحج، ج:۱ ص:۱۶۵ طبع قدیمی کتب خانہ)۔

(۲۴) التقصیر فی الحج: أن یقطع رؤس شعر رأسہ قدر أنملۃ ونحوہ عند الْإحلال۔ (قواعد الفقہ ص:۲۳۴، طبع صدف پبلشرز کراچی، المنجد ص:۸۰۸، طبع دار الاشاعت کراچی)۔

(۲۵) المُحرِم: من أحرم بالعمرۃ أو بالحج أو بھما۔ (قواعد الفقہ ص:۴۷۰)۔

(۲۶) الْإحرام أربعۃ أوجہ: ۱-إحرام الحجۃ المفردۃ ۔۔۔ أما الْإحرام بحجۃ مفردۃ فھو ان یقول عند المیقات: اللّٰھم إنّی أرید الحج فیسّرہ لی وتقبّلہ منی۔ (خزانۃ الفقہ، کتاب وجوہ الْإحرام ص:۸۸)۔ وأیضًا: المفرد ۔۔۔ بکسر الراء ھو من أفرد بإحرام الحج۔ (قواعد الفقہ ص:۴۹۹)۔

(۲۷) المواقیت: جمع میقات وھی المواضع اللتی لَا یجاوزھا مرید مکۃ إلّا مُحرمًا ۔۔۔إلخ۔ (قواعد الفقہ ص:۵۱۲، الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۱۵۴)۔

(۲۸) جحفۃ: موضع بین مکۃ المکرمۃ والمدینۃ المنورۃ، وھی میقات أھل الشام۔ (قواعد الفقہ ص:۲۴۶)۔ وأیضًا: ولأھل الشام الجحفۃ، علٰی ثلاث مراحل من مکۃ بقرب رابغ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۶۵)۔

(۲۹) اللباب فی شرح الکتاب، کتاب الحج، فصل یوم الترویۃ وعرفۃ ج:۱ ص:۱۷۱، طبع قدیمی کتب خانہ۔

(۳۰) وعنہ (أی ابن عباس) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: نزل الحجر الأسود من الجنّۃ وھو أشد بیاضًا من اللبن، فسوّدتہ خطایا بنی آدم۔ (مشکوٰۃ، باب دخول مکۃ، والطواف، الفصل الثانی ص:۲۲۷، طبع قدیمی، وکذا فی البحر العمیق ج:۱ ص:۱۷۳، طبع مؤسسۃ الریان، المکتبۃ المکیۃ، مصر)۔

(۳۱) الحرم: بالتحریک إذا أطلق أرید بہ حرم مکۃ المکرمۃ وھو مواضع معروفۃ محددۃ بنوع من العلاقۃ، وخارجھا الحل۔ (قواعد الفقہ ص:۲۶۳)۔

(۳۲) الحل: بالفتح ضد العقد وبالکسر، ما جاوز الحرم من أرض مکۃ ویقابلہ الحرم۔ (قواعد الفقہ ص:۲۶۷)۔

(۳۳) المنجد مترجم ص:۲۳۳۔

(۳۴) الحطیم: ویسمّٰی الحِجر وحظیرۃ اسماعیل علیہ السلام وھی البقعۃ التی تحت المیزاب بہ حاجز کنصف دائرۃ بینہ وبین البیت فرجہ ستۃ ذراع۔ (قواعد الفقہ ص:۲۶۶)۔

(۳۵) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: سألت النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الجدار أمن البیت ھو؟ قال: نعم! قلت: فمالھم لم یُدخِلوہ فی البیت؟ قال: إن قومک قصرت بھم النفقۃُ۔ قلت: فما شان بابہ مرتفعًا؟ قال: فعل ذٰلک قومک لیدخلوا من شآئوا ویمنعوا من شآئوا ولولَا ان قومک حدیث عھدھم بالجاھلیۃ فأخاف أن تُنکِر قلوبھم أن أدخل الجَدْرَ فی البیت وأن ألصِقَ بابَہٗ بالأرض۔ (الصحیح للبخاری، باب فضل مکۃ وبنیانھا ج:۱ ص:۲۱۵)۔

وفی الفتح: (قصرت بھم النفقۃ) ویوضحہ ما ذکر ابن اسحاق فی ’’السیرۃ‘‘ عن عبد اللہ بن أبی نجیح أنہ أخبر عن عبد اللہ بن صفوان بن اُمیۃ أن أبا وھب ۔۔۔ قال لقریش: لَا تدخلوا فیہ من کسبکم إلّا الطیب، ولَا تدخلوا فیہ محصر بغی ولَا بیع ربًا ولَا مظلمۃ أحد من الناس۔ عن عبد اللہ بن أبی یزید عن أبیہ أنہ شھد عمر بن الخطاب ۔۔۔ فسألہ عمر عن بناء الکعبۃ فقال: إن قریشًا تقربت لبناء الکعبۃ -أی بالنفقۃ الطیبۃ- فعجزت فترکوا البیت فی الحجر، فقال عمر: صدقت۔ (فتح الباری ج:۳ ص:۵۶۶ طبع قدیمی کتب خانہ کراچی)۔

(۳۶) الدم فی جنایۃ الحج: ھو ذبح حیوان من الْإبل والبقر والغنم، وحیثما أطلق فالمراد بہ ذبح شاۃ ۔۔۔إلخ۔ (قواعد الفقہ ص:۲۹۴، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔

(۳۷) ولأھل المدینۃ ذُوالحُلَیفۃ، بضم ففتح، موضع علٰی ستۃ أمیال من المدینۃ، وعشر مراحل من مکۃ، وتعرف الآن بآبار علی۔ (اللباب فی شرح الکتاب، کتاب الحج، المواقیت ج:۱ ص:۱۶۵، طبع قدیمی کتب خانہ)۔

(۳۸) ذات عِرق: میقات أھل العراق۔ (قواعد الفقہ ص:۲۹۸)۔ أیضًا: ولأھل العراق ذاتُ عِرق، بکسر فسکون، علٰی مرحلتین من مکۃ۔ وفی الحاشیۃ۲: تبعد عن مکۃ ۹۴ کیلومترًا، وھی فی الشمال الشرقی لمکۃ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۶۵، کتاب الحج، المواقیت، طبع قدیمی، خزانۃ الفقہ ص:۸۹، طبع المکتبۃ العاصمیۃ الغفوریۃ)۔

(۳۹) وعن ابن عمر أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: مسح الحجر والرکن الیمانی یحط الخطایا حطًا ۔۔۔ وانما سُمّی الرکن الیمانی فیما ذکر القتبی: لأن رجلًا من الیمن بناہ۔ (البحر العمیق ج:۱ ص:۱۷۷-۱۷۸ طبع مؤسسۃ الریّان، المکتبۃ المکیۃ)۔

(۴۰) عن سعید بن جبیر: ﵟ وَٱتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبۡرَٰهِـۧمَ مُصَلّٗىۖ ﵞقال: الحجر مقام إبراھیم نبی اللہ ، قد جعلہ اللہ رحمۃ، فکان یقوم علیہ ویناولہ إسماعیل الحجارۃ۔ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرۃ آیۃ:۱۲۵، ج:۱ ص:۳۶۱ طبع رشیدیہ)۔ أیضًا تفسیر مدارک ج:۱ ص:۱۲۸ طبع دار ابن کثیر، بیروت)۔

(۴۱) الملتزم: ھو ما بین الحجر الأسود إلٰی باب الکعبۃ الشریفۃ من حائط الکعبۃ الشریفۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۵۰۵، أیضًا البحر العمیق ج:۱ ص:۱۸۵ طبع مکہ)

(۴۲) قال ابن فارس اللغوی: الخیف ارتفع من الأرض وانحدر من الجبل، ومسجد منٰی یسمّٰی مسجد الخیف لأنہ فی سفح جبلھا۔ (البحر العمیق، فصل مسجد الخیف، ج:۱ ص:۲۳۶ طبع مؤسسۃ الریان، المکتبۃ المکیۃ)۔

(۴۳) المزدلفۃ: موضع بین منٰی وعرفات وفیھا المشعر الحرام وھو المَعْلم أی موضع علامۃ الحرم۔ (قواعد الفقہ ص:۴۸۰)۔

(۴۴) (قولہ: إلّا بطن محسر وھو واد بأسفل مزدلفۃ عن یسارھا، وقف فیہ إبلیس متحسرًا۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الحج ج:۱ ص:۱۶۲)۔ وأوَّل محسر من القرن المشرف من الجبل الذی علٰی یسار الذاھب إلٰی منٰی، سمّی بہ لأنہ فیل أصحاب الفیل أعیا فیہ۔ (فتح القدیر، کتاب الحج ج:۲ ص:۱۷۳ طبع دار صادر، بیروت)۔

(۴۵) المروۃ ۔۔۔ وفی الحج جبل بمکۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۴۷۹، طبع صدف پبلشرز کراچی)۔

(۴۶) (قولہ فإذا بلغ إلٰی بطن الوادی سعٰی بین المیلین الأخضرین) وھما علامتان لموضع الھرولۃ، وھما شیئان منحوتان من جدار المسجد لَا انھما مفصلان عن الجدار، وسماھا أخضرین علٰی طریق الأغلب وإلّا فأحدھما أخضر والآخر أحمر ۔۔۔ فجعل ھناک میلان علامۃ لموضع الھرولۃ، لیعرف أنہ بطن الوادی۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الحج ج:۱ ص:۱۵۹)۔

(۴۷) الموقف: الموقف إثنان، ۱-وقوف بعرفات: یقف الحاج بقرب الجبل بعد الظھر والعصر إلٰی أن تغرب الشمس ۔۔۔ ۲-وأما الموقف الثانی فبالمزدلفۃ، یقف الْإمام والناس معہ بعد ما صلّٰی صلاۃ الفجر من یوم النحر یغلس إلٰی أن ترتفع الشمس ۔۔۔إلخ۔ (خزانۃ الفقہ لأبی اللیث ص:۹۱ کتاب الحج، الموقف، طبع المکتبۃ العاصمیۃ)۔

(۴۸) ایضاً۔

(۴۹) الھَدْیُ: بالفتح ۔۔۔ اسم لما أھدی إلی الحرم من النعم أو ما ینقل للذبح من النعم إلی الحرم، والھدی من ثلاثۃ، من الْإبل والبقر والغنم۔ (قواعد الفقہ ص:۵۵۱، وأیضًا فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۶۱۴، باب الھدی)۔

(۵۰) یوم الحج یوم العرفۃ: ھو التاسع من ذی الحجۃ، وسمّٰی بیوم عرفۃ لأن آدم وحواء بعد ما أھبطا إلی الأرض وافترقا فلم یجتمعا سنین ثم التقیا یوم عرفۃ بعرفات قالہ النسفی ۔۔۔إلخ۔ (قواعد الفقہ ص:۵۵۸، المنجد ص:۶۴۵)۔

(۵۱) یلملم: میقات أھل الیمن ومن فی جھتھم من أھل باکستان والھند واندونیسیا وغیرھم۔ (قواعد الفقہ ص:۵۵۵)، وأیضًا: وھو جبل من جبال تھامۃ مشھور فی زماننا بالسعدیۃ۔ (حاشیۃ ھدایۃ ج:۱ ص:۲۱۴، طبع ملتان)۔