عمرہ
ذیالحجہمیںحجسےقبلکتنےعمرےکئےجاسکتےہیں؟
سوال:۔
ایامِ حج سے قبل (مراد یکم تا ۸؍ذی الحجہ ہے) لوگ جب وطن سے اِحرام باندھ کر جاتے ہیں تو ایک عمرہ کرنے کے بعد فارغ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ اس دوران مزید عمرے کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔
حج تک مزید عمرے نہیں کرنے چاہئیں، حج سے فارغ ہوکر کرے، حج سے پہلے طواف جتنے چاہے کرتا رہے۔(۱)
- (۱) وأما شرائط الرکن فما ذکرنا فی الحج إلّا الوقت فإن السَّنَۃ کلھا وقت العمرۃ وتجوز فی غیر أشھر الحج وفی أشھر الحج، لٰـکنہ یکرہ فعلھا فی یوم عرفۃ ویوم النحر وأیام التشریق، أما الجواز فی الأوقات کلھا فلقولہ تعالٰی: ﵟ وَأَتِمُّواْ ٱلۡحَجَّ وَٱلۡعُمۡرَةَ لِلَّهِۚ ﵞ، مطلقًا عن الوقت، وقد روی عن عائشۃ رضی اللہ عنھا انھا قالت: ما اعتمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ إلّا شھدتھا، وما اعتمر إلّا فی ذی القعدۃ۔ وعن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتمر مع طائفۃ من أھلہ فی عشر ذی الحجۃ فدل الحدیثان علٰی أن جوازھا فی أشھر الحج، وما روی عن عمر رضی اللہ عنہ انہ کان ینھٰی عنھا فی أشھر الحج فھو محمول علٰی نھی الشفقۃ علٰی أھل الحرم لئلا یکون الموسم فی وقت واحد من السنۃ بل فی وقتین لتوسع المعیشۃ علٰی أھل الحرم۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۲۷ فصل فی العمرۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔

