عمرہ
اِحرامباندھنےکےبعداگربیماریکیوجہسےعمرہنہکرسکےتواسکےذمہعمرہکیقضااوردَمواجبہے
سوال:۔
عمرہ کے لئے میں نے ۲۷؍رمضان المبارک کو جدہ سے اِحرام باندھا، لیکن میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی، میں بالکل چل نہیں سکتا تھا، اور مجھے زندگی بھر افسوس رہے گا کہ میں ۲۷؍رمضان المبارک کو عمرہ ادا نہ کرسکا اور میں نے وہ اِحرام عمرہ ادا کرنے کے بغیر کھول دیا۔ میں نے مجبوری سے عمرہ ادا نہیں کیا، اس گناہ کی بخشش کس طرح ہوسکتی ہے؟
جواب:۔
آپ کے ذمہ اِحرام توڑ دینے کی وجہ سے دَم بھی واجب ہے،(۱) اور عمرہ کی قضا بھی لازم ہے۔(۲)
- (۱) وإذا أحصر المحرم بعدو أو أصابہ مرض فمنعہ من المضی جاز لہ التحلل ۔۔۔ ویقال لہ إبعث شاۃ تذبح فی الحرم ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ، کتاب الحج، باب الْإحصار ص:۳۱۲ طبع رحمانیہ)۔
- (۲) وعلی المحصر بالعمرۃ القضاء۔ (ھدایۃ ص:۳۱۳، کتاب الحج، باب الْإحصار)۔

