بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عمرہ

عمرہ،‌حج‌کا‌بدل‌نہیں‌ہے

سوال:۔

اسلام کا پانچواں رُکن (صاحبِ اِستطاعت کے لئے) فریضۂ حج کی ادائیگی کرنا فرض ہے۔ مگر اکثر بزنس پیشہ حضرات جب وہ اپنا بزنس ٹرپ یورپ یا امریکہ وغیرہ کا کرتے ہیں تو وہ لوگ واپسی میں یا جاتے ہوئے مکۃ المکرمہ جاکر عمرہ ادا کرتے ہیں، اور یہی حال پاکستان کے اعلیٰ افسران کا ہے جو حکومت کے خرچ پر یورپ وغیرہ برائے ٹریننگ یا حکومت کے کسی کام سے جاتے ہیں تو وہ حضرات بھی واپسی میں عمرہ ادا کرکے آتے ہیں، مگر فریضۂ حج ادا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ غالباً ان کا خیال ہے کہ عمرہ ادا کرنا حج کا نعم البدل ہے۔ عرض کرنے کا مقصد ہے کہ عمرہ ادا کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا عمرہ ادا کرنا حج کا نعم البدل ہے؟

جواب:۔

یورپ و امریکہ جاتے آتے ہوئے اگر عمرہ کی سعادت نصیب ہوجائے تو عمرہ تو کرلینا چاہئے، لیکن عمرہ، حج کا بدل نہیں ہے۔(۱) جس شخص پر حج فرض ہو، اس کا حج کرنا ضروری ہے، محض عمرہ کرنے سے فرض ادا نہیں ہوگا۔(۲)

  1. (۱) انّ العمرۃ واجبۃ ولٰـکنھا لیست بفرضیۃ وتسمیتھا حجۃ صغریٰ فی الحدیث یحتمل أن یکون فی حکم الثواب۔ (بدائع الصنائع ج:۲ ص:۲۲۶، کتاب الحج، فصل وأما العمرۃ، طبع سعید کراچی)۔
  2. (۲) ﵟ وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلۡبَيۡتِ مَنِ ٱسۡتَطَاعَ إِلَيۡهِ سَبِيلٗاۚ ﵞ آل عمران ٩٧