بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

خود‌کو‌کسی‌دُوسرے‌کی‌بیوی‌ظاہر‌کرکے‌حج‌کرنا

سوال:۔

میرا مسئلہ دراصل کچھ یوں ہے کہ میرا نام محمد اکرم ہے، میرا ایک دوست جس کا نام محمد اشرف ہے۔ اب میرے دوست یعنی محمد اشرف کا کچھ تھوڑا سا جھگڑا اپنے کفیل کے ساتھ تھا، لہٰذا اس نے اپنی بیوی کو یہاں حج پر بلانا تھا، سو اس نے میرے نام پر اپنی بیوی کو حج پر بلایا، یعنی اس نے نکاح نامے پر بھی میرا نام لکھوایا اور کاغذی کاروائی میں وہ میری ہی بیوی بن کر یہاں آئی، اب میں ہی اسے لینے ایئرپورٹ پر گیا، ایئرپورٹ سیکورٹی والوں نے میرا اِقامہ دیکھ کر میری بیوی جان کر اس کو باہر آنے دیا (ایئرپورٹ سے)، اب عورت اپنے اصل خاوند کے پاس ہی ہے اور اس نے حج بھی کیا ہے۔ اب آپ یہ بتائیں کہ یہ حج صحیح ہے یا نہیں؟ اور کیا اگر یہ غلط ہے اور گناہ ہے تو میں کس حد تک مجرم ہوں؟

جواب:۔

فریضۂ حج تو اس محترمہ کا ادا ہوگیا، مگر جعل سازی کے گناہ میں تینوں شریک ہیں، وہ دونوں میاں بیوی بھی اور آپ بھی۔(۱)

  1. (۱) ان الْإعانۃ علی المعصیۃ حرام مطلقًا بنص القرآن، أعنی قولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ۔ (أحکام القرآن، مفتی محمد شفیع ج:۳ ص:۷۴)۔ عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ۔۔۔ من غشنا فلیس منا۔ (الترغیب والترھیب ج:۲ ص:۵۷۱، الترھیب من الغش، طبع بیروت)۔ وعن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: آیۃ المنافق ثلاث، زاد مسلم: وإن صام وصلّٰی وزعم أنہ مسلم، ثم اتفقا: إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا أتمن خان۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷، باب الکبائر وعلامات النفاق)۔