ناجائزذرائعسےحجکرنا
رشوتکےذریعےسعودیعربمیںملازمکاوالدینکوحجکرانا
سوال:۔
ایک شخص ملک سے باہر کمانے کے لئے کوشش کرتا ہے اور کسی (ریکروٹنگ ایجنسی) یا ادارے کو بطور رشوت دس یا بارہ ہزار روپے دے کر سعودی ریال کمانے جاتا ہے، وہ ایک سال یا دو سال کے بعد اسپانسر شپ اسکیم کے تحت اپنے والد یا والدہ کو حج کراتا ہے، اس سلسلے میں یہ بتائیں کہ کیا اس طرح کا حج اسلام کے عین مطابق ہے؟ کیونکہ وہ شخص محنت کرکے تو کماتا ہے مگر جس طریقے سے وہ باہر گیا ہے یعنی رشوت دے کر تو اس کے والدین کا حج قبول ہوگا یا نہیں؟
جواب:۔
رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنا ناجائز ہے،(۱) مگر ملازمت ہوجانے کے بعد اپنی محنت سے اس نے جو روپیہ کمایا وہ حلال ہے، اور اس سے حج کرنا یا اپنے والدین اور دیگر اعزّہ کو حج کرانا جائز ہے۔
- (۱) عن عبد اللہ بن عمرو لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی والمرتشی۔ (مشکٰوۃ ص:۳۲۶، باب الأقضیۃ)

