ناجائزذرائعسےحجکرنا
حجکےلئےجھوٹبولنا
سوال:۔
سعودی گورنمنٹ نے پچھلے سال حج سے پہلے ایک قانون نافذ کیا تھا کہ کوئی بھی غیرملکی جو سعودیہ میں ملازمت کر رہا ہے اگر اس نے ایک مرتبہ حج کرلیا تو وہ دوبارہ پانچ سال تک حج ادا نہیں کرسکتا۔ ہماری کمپنی ہر اس شخص کو ایک فارم پُر کرنے کو دیتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ: ’’میں نے پچھلے پانچ سال سے حج نہیں کیا ہے، مجھے حج ادا کرنے کی اجازت دی جائے‘‘ نیچے اس شخص کے دستخط ہونے کے ساتھ ساتھ دو گواہوں کے نام اور دستخط بھی ہوتے ہیں۔
اب اگر میں اپنی والدہ یا بیوی کو اس سال حج کروانا چاہوں تو مجھے بھی ان کے ساتھ محرَم کے طور پر حج کرنا ہوگا، اور اس کے لئے مجھے درج بالا فارم پُر کرکے یعنی جھوٹ لکھ کر اپنے دفتر میں جمع کرانا ہوگا، چونکہ میں نے دو سال پہلے حج کیا تھا۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح جھوٹ لکھ کر حج کرنا جائز ہے؟ اور اس طرح حج ادا ہوجائے گا یا اس طرح حج کرنے والا گناہ گار ہوگا؟
جواب:۔
آپ جھوٹ کیوں بولیں؟ آپ یہ لکھ کر دیں کہ میں خود تو حج کرچکا ہوں لیکن اپنی والدہ یا بیوی کو حج کرانا چاہتا ہوں اس کی اجازت دی جائے۔(۱)
- (۱) وفی الصحیحین عن أبی بکرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا أنبئکم بأکبر الکبائر؟ ثلاثًا، قلنا: بلٰی یا رسول اللہ ! قال: الشرک باللہ وعقوق الوالدین، وکان متکئًا، فجلس فقال: ألَا وقول الزور، ألَا وشھادۃ الزور، فما زال یکرّرھا حتّٰی قلنا: لیتہ سکت۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۶۱۵، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

