بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

عازمینِ‌حج‌کا‌بیمہ

سوال:۔

حکومت نے ایک مقامی کمپنی کو حجاجِ کرام کی پاکستان سے روانگی سے لے کر مع سلامت واپسی تک بیمۂ زندگی کی اِجازت دی ہے۔ عازمِ حج کو شاید ایک ہزار روپے پریمیم کے عوض حادثاتی موت کی صورت میں اس کے نامزد کردہ پسماندگان، ورثاء کو تقریباً پانچ لاکھ روپے بیمے کی رقم ادا کی جائے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ حجاجِ کرام کا اس طرح کا بیمہ کرانا، ترغیب دینا، یا دِلانا، شرعاً کیسا ہے؟

جواب:۔

بیمۂ زندگی ناجائز اور حرام ہے، خصوصاً حج جیسی مقدس عبادت کو اس گندگی سے ملوّث کرنا اور بھی گندا ہے۔ اس لئے حجاجِ کرام کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں ایک ہزار دے کر بیمۂ زندگی نہ کریں، ورنہ ان کا حج کرنا نیکی برباد اور گناہ لازم کے مصداق برباد نہ ہوجائے۔ حکومت کا یہ کام کرنا اور حاجیوں کو اس کی ترغیب دینا ناجائز ہے، اور گناہ کی دعوت دینے کے مترادف ہے، اس لئے سرکاری اہل کاروں کو اس سے اِجتناب کرنا چاہئے۔(۱)

  1. (۱) کل قرض جرّ نفعًا فھو ربٰوا۔ (فقہ السُّنَّۃ ج:۳ ص:۱۴۸، طبع دار الکتاب العربی، بیروت)۔ أیضًا: کل قرض جر منفعۃً فھو ربًا۔ (فتح القدیر ج:۹ ص:۴۴۸ طبع ریاض)۔ القرض بالشرط حرام والشرط لیس بلازم۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۳ ص:۵۴)۔ وان تأجیلہ لَا یصح (إلٰی قولہ) وعلی إعتبار الْإنتھاء لَا یصح لأنّہ یصیر بیع الدراھم بالدراھم نسیئۃ وھو ربٰوا۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۷۲)۔ﵟ وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢