بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

سرکاری‌خرچ‌پر‌حج‌کرنا

سوال:۔

سرکاری محکموں سے لوگوں کو سرکاری حج پر ہر سال کی طرح بھیجا گیا، جبکہ سرکاری خزانے میں پاکستان کے چودہ کروڑ عوام کا حصہ ہے۔ آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ:

۱:۔ اس طرح سے کسی محکمے کا اپنے ملازمین کو سرکاری حج پر بھیجنا جائز ہے؟

۲:۔ کیا اس طرح ان لوگوں کا حج ادا ہوگیا؟

۳:۔ اگر یہ شرعاً جائز نہیں تو کیا آئندہ سال سے حکومت کو یہ سلسلہ بند کردیناچاہئے؟

جواب۱:۔

محکمے دو قسم کے ہیں، ایک نجی اور دُوسرے سرکاری، نجی محکموں میں اگر کچھ لوگوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے حج پر بھیجا جاتا ہے، تو یہ بھیجنا بھی صحیح ہے اور ان کا حج بھی ادا ہوجائے گا، شرط یہ ہے کہ حج کے لئے جو پیسے جمع کروائے جائیں، وہ خالص ان کی ملکیت کردئیے جائیں، اور دُوسری شرط یہ ہے کہ اس قرعہ اندازی میں گھپلا نہ کیا جائے، ورنہ ان کا حج صحیح نہیں ہوگا۔

۲:۔ اور دُوسرا طریقہ سرکاری ملازمین کو حج پر بھیجنا ہے، اگر حکومت کے پاس کوئی ایسا فنڈ موجود ہے جس سے وہ کسی ایسی جگہ رقم کو خرچ کرسکے، پھر تو ٹھیک ہے، ایسے لوگوں کا حج ادا ہوجائے گا، ورنہ اگر سرکاری خزانے سے عازمینِ حج کے مصارف برداشت کئے جاتے ہیں، تو ایسے لوگوں کا حج نہیں ہوگا، اور وہ خود بھی گناہگار ہوں گے اور ان کو حج پر بھیجنے والے اہلِ ارباب واِختیار بھی گناہگار ہوں گے، اِلَّا یہ کہ کوئی شخص اپنے پیسے سے حج پر رقم خرچ کرے، واللہ اعلم!