بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

سرکاری‌حج‌کا‌شرعی‌حکم

سوال:۔

ہمارے ملک میں ہر سال صدر صاحب، وزیراعظم صاحبہ، ایم این اے، افسران وغیرہ جو خود اتنے مال دار ہیں کہ سینکڑوں غریب عوام کو حج کرواسکتے ہیں، مگر خود سرکاری خرچ پر مع لاؤلشکر کے حج پر جاتے ہیں، کیا بارگاہِ رَبّ العزّت میں ایسا حج شرفِ قبولیت حاصل کرے گا؟

۲:۔ جو لوگ ہمراہ جاتے ہیں اور خود حج کے اِخراجات برداشت کرسکتے ہیں، کیا ان کا حج قبول ہوگا؟

۳:۔ بہت سے عام شہری جنہوں نے رقم جمع کردی تھی وہ نہ جاسکے، بلکہ ان کی جگہ دُوسرے پسندیدہ اَشخاص حج پر بھیج دئیے گئے، کیا صحیح صورتِ حال جاننے والوں کا حج مقبول ہوگا؟

۴:۔ ناقص کی رائے میں ہم لوگ دِین بلکہ ہر معاملات میں اتنے پست ہوگئے ہیں کہ اتنے اہم دِینی معاملات میں بھی بدعنوانیاں کرتے ہیں۔

جواب:۔

آپ کے فتویٰ پوچھنے اور میرے فتویٰ دینے سے ان لوگوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اور یہ ظاہر ہے کہ جب ناجائز رقم سے حج کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔

۲:۔ جو لوگ دُوسروں کا حق مارکر گئے، ان کا حج بھی موجبِ رضائے اِلٰہی نہیں ہوسکتا۔