ناجائزذرائعسےحجکرنا
بونڈکیاِنعامکیرقمسےحجکرنا
سوال:۔
ٹی وی کے ایک پروگرام میں پروفیسر حسنین کاظمی صاحب میزبان کی حیثیت سے، پروفیسر علی رضا شاہ نقوی صاحب اور مولانا صلاح الدین صاحب جرنلسٹ سے چند مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔ من جملہ چند سوالوں کے ایک سوال یہ تھا کہ آیا پرائز بونڈ پر اِنعام حاصل کردہ رقم سے ’’عمرہ یا حج‘‘ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اس کا جواب پروفیسر علی رضا شاہ نقوی صاحب نے یہ دیا کہ پرائز بونڈ کی اِنعام حاصل کردہ رقم سے عمرہ اور حج جائز ہے۔ اس کی تشریح انہوں نے اس طرح فرمائی:
’’اگر دس روپے کا ایک پرائز بونڈ کوئی خریدتا ہے تو گویا اس کے پاس دس روپے کی ایک رقم ہے جس کو جب اور جس وقت وہ چاہے کسی بینک میں جاکر اس پرائز بونڈ کو دے کر مبلغ دس روپے حاصل کرسکتا ہے۔‘‘ مزید یہ تشریح فرمائی کہ: ’’مثلاً ایک ہزار اَشخاص دس روپے کا ایک ایک پرائز بونڈ خریدتے ہیں، قرعہ اندازی کے بعد کسی ایک شخص کو مقرّر کردہ اِنعام ملتا ہے، مگر بقیہ ۹۹۹ اَشخاص اپنی اپنی رقم سے محروم نہیں ہوتے بلکہ ان کے پاس یہ رقم محفوظ رہتی ہے، اور اِنعام وہ ادارہ دیتا ہے جس کی سرپرستی میں پرائز بونڈ اسکیم رائج ہے، لہٰذا اس اِنعامی رقم سے عمرہ یا حج کرنا جائز ہے۔‘‘ اس پروگرام کو کافی لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا اور سنا ہوگا، مولانا صاحب! آپ سے گزارش ہے کہ آپ قرآن و حدیث کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے پر روشنی ڈالیں کہ آیا پرائز بونڈ کی حاصل کردہ اِنعامی رقم سے ’’عمرہ یا حج‘‘ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
جواب:۔
پرائز بونڈ پر جو رقم ملتی ہے وہ جوا ہے اور سود بھی، جوا اس طرح ہے کہ بونڈ خریدنے والوں میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو اس بونڈ کے بدلے میں دس روپے ہی ملیں گے یا مثلاً پچاس ہزار۔ اور سود اس طرح ہے کہ پرائز بونڈ خرید کر اس شخص نے متعلقہ ادارے کو دس روپے قرض دئیے اور ادارے نے اس روپے کے بدلے اس کو پچاس ہزار دس روپے واپس کئے، اب یہ زائد رقم جو اِنعام کے نام پر اس کو ملی ہے، خالص ’’سود‘‘ ہے،(۱) اور خالص سود کی رقم سے عمرہ اور حج کرنا جائز نہیں۔(۲)
- (۱) کل قرض جرّ نفعًا فھو ربًا۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۱۶۶، ج:۶ ص:۳۹۴)۔
- (۲) یجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال فإن اللہ لَا یقبل الحج بالنفقۃ الحرام۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۲۰، کتاب المناسک)۔

