بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

بینک‌ملازمین‌سے‌زبردستی‌چندہ‌لے‌کر‌حج‌کا‌قرعہ‌نکالنا

سوال:۔

ہم مسلم کمرشل بینک کے ملازم ہیں۔ ہماری یونین نے ایک حج اسکیم نکالی ہے اور ہر اسٹاف سے ۲۵ روپے ماہوار لیتے ہیں، اس پیسے سے قرعہ اندازی کرکے دو اسٹاف کو حج پر جانے کو کہا ہے۔ کیا اس چندے سے وہ بھی ۲۵روپے ماہوار ایک سال تک، اس پیسے سے حج جائز ہے؟ کافی اسٹاف دِل سے یہ چندہ دینا نہیں چاہتا، مگر یونین کے ڈَر اور خوف سے ۲۵روپے ماہوار دے رہا ہے، کیا اس طرح جب دِل سے کوئی کام نہیں کرتا، کسی کے ڈَر اور خوف کے چندے سے حج جائز ہے؟

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے اس طرح حج پر جانا جائز نہیں۔ اوّل تو بینک سے حاصل ہونے والی تنخواہ ہی حلال نہیں،(۱) اور پھر زبردستی رقم جمع کرانا اور اس کا قرعہ نکالنا یہ دونوں چیزیں ناجائز ہیں۔(۲)

  1. (۱) عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ، وقال ھم سواء۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۴، باب الربا، طبع قدیمی کتب خانہ)۔
  2. (۲) عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمّہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریٍٔ إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ)۔