ناجائزذرائعسےحجکرنا
حجکےلئےلیاہواقرضبونڈکےاِنعامکیرقمسےاداکرنےکاحجپراَثر
سوال:۔
ایک شخص کی حج کی درخواست کے ساتھ رقم جمع کرنے میں بیس پچّیس ہزار کی کمی پڑ رہی تھی، اس کے پاس بونڈ کے اِنعام کی رقم تھی وہ اس نے محفوظ رکھی، اور کسی سے قرض لے کر پچّیس ہزار پورے کرکے فارم جمع کردیا۔ اور حج کو چلا گیا۔ حج سے واپسی پر جائز رقم سے قرض کی واپسی کی کوشش کرتا ہے، جائز رقم مہیا نہ ہونے کی صورت میں بونڈ کے اِنعام کی رقم سے قرض ادا کردیتا ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ اس کا حج ادا ہوجائے گا یا حج سے واپسی پر جائز رقم سے ہی قرض ادا کرنے پر حج جائز ہوگا؟
جواب:۔
اس کا حج صحیح ہے، اب ادائے قرض جائز رقم سے کرتا ہے یا ناجائز سے؟ اس کا گناہ وثواب الگ ہوگا، حج سے اس کا تعلق نہیں، واللہ اعلم!(۱)
- (۱) فإنّ اللہ لَا یقبل الحج بالنفقۃ الحرام مع أنّہ یسقط الفرض معھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۲۰، کتاب المناسک)۔

