بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

حج‌کے‌لئے‌جمع‌کی‌ہوئی‌حج‌کمیٹی‌کی‌رقم‌واپس‌کرے

سوال:۔

ہم ایک اِدارے کے ملازم ہیں، جس میں تمام ملازمین کی حج کے لئے ایک کمیٹی ڈالی گئی ہے جس میں ۲۰۰ روپے مہینہ دیتے ہیں، جس سے ہر سال ۱۲ملازمین کو قرعہ اندازی کے ذریعے حج کرایا جاتا ہے، یہ سلسلہ گزشتہ پانچ سال سے جاری ہے۔ اس میں شمولیت کے وقت کہا گیا تھا کہ جو ملازمین ریٹائر ہوں گے ان کو عمرہ کرایا جائے گا (اگر اس عرصے میں ان کا نام قرعہ اندازی میں آجائے) لیکن اب گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے کئی ملازمین ریٹائر ہوگئے ہیں، تو ان کو نہ عمرہ کرایا گیا اور نہ ان کی جمع رقم واپس کی گئی ہے۔ اِنتظامیہ حج کمیٹی یہ جواب دیتی ہے کہ ان ملازمین کو پانچ مرتبہ چانس دیا گیا تھا، ان کا نام نہیں نکلا، لہٰذا اب ان کی ممبرشپ ختم سمجھی جائے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں دیگر اَفراد کا حج جائز ہوگا جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کا پیسہ اس میں شامل ہو اور ان کو واپس نہ کیا گیا ہو؟

جواب:۔

جن ملازمین کا حج کے سلسلے میں پیسہ جمع تھا، اِدارے کی اِنتظامیہ حج کمیٹی کے ذمے فرض ہے کہ جو ملازم اس اسکیم کے تحت ریٹائر ہوگئے ہیں، ان کو باقاعدہ حج اسکیم میں شامل رکھے اور جب ان کا نام آئے ان کو حج کے لئے بھیجے، اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو ان کی جتنی رقم حج کے لئے جمع ہوچکی ہے، ان کو واپس کرے۔ حقوق العباد کا معاملہ ہے، ورنہ کسی کا حج بھی قبول نہیں ہوگا۔(۱)

  1. (۱) یبدأ بالتوبۃ ۔۔۔ ورد المظالم واستحلال من کل خصومہ ومن کل عاملہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۹)۔