ناجائزذرائعسےحجکرنا
حجکےلئےڈرافٹپرزیادہدینا
سوال:۔
آج کل حج کے واسطے ڈرافٹ منگواتے ہیں کسی دلال کے ذریعہ، وہ ہوتا ہے تیس ہزار کا لیکن اس منگوانے والے کو پانچ ہزار اُوپر دیتے ہیں، یعنی پینتیس ہزار کا پڑجاتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس کو یہ پانچ ہزار کمیشن یا اس کی مزدوری کے طور پر دے سکتے ہیں یا نہیں؟ آیا یہ لین دین حلال ہے یا حرام؟ اسی طرح اگر اس کو بجائے پاکستانی روپے یا ڈالر یا دُوسرے ملک کی رقم دے دیں تو آیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ کیونکہ اس میں تو جنسیت بدل چکی ہے۔
جواب:۔
ڈرافٹ منگوانے کی جو صورت آپ نے لکھی ہے یعنی ۳۵ہزار دے کر ۳۰ہزار روپے لینا یہ تو سمجھ میں نہیں آتی۔ البتہ اگر پانچ ہزار روپے ایجنٹ کو بطور اُجرت دئیے جائیں تو کچھ گنجائش ہوسکتی ہے،(۱) روپے کے بدلے ڈالر یا کوئی اور کرنسی لی جائے تو جائز ہے۔(۲)
- (۱) وفی التحفۃ وأما أجرۃ السمسار فی ظاھر الروایۃ تلحق برأس المال ۔۔۔إلخ۔ (البنایۃ ج:۱۰ ص:۳۵۵)۔
- (۲) ایضاً حاشیہ گذشتہ: واذا اختلف ہذہ الأصناف ...الخ

