ناجائزذرائعسےحجکرنا
سعودیعربسےزائدرقمدےکرڈرافٹمنگواکرحجپرجانا
سوال:۔
حج اسپانسر اسکیم ۱۹۸۷ء کی توسیع یکم مئی تک کردی گئی ہے، لہٰذا حجاجِ کرام سعودی عرب سے ڈرافٹ منگوا رہے ہیں۔ جن حضرات کے عزیز و اقارب وہاں موجود ہیں وہ تو قواعد و ضوابط کے مطابق ڈرافٹ دستیاب کرلیتے ہیں، اس کے علاوہ کئی حجاجِ کرام دُوسروں سے ۲۸ہزار پاکستانی روپے کا ڈرافٹ منگواتے ہیں جس کے لئے انہیں ۳۲ہزار یا اس سے زائد رقم دینی پڑتی ہے، یعنی تقریباً ۴ہزار روپے بلیک منی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس طرح زائد رقم دے کر ڈرافٹ منگوانا جائز ہے؟ اس طرح کے ڈرافٹ منگواکر حج کے لئے جائے اور حج ادا کرے تو کیا فرض ادا ہوجائے گا؟ اس میں کوئی نقص تو نہیں؟ عموماً پاکستانی روپے دئیے جاتے ہیں جو کہ ریال کی شکل میں وہاں ملتے ہیں، پھر وہیں بینک میں دئیے جاتے ہیں اور پاکستانی روپے کا ڈرافٹ مل جاتا ہے، وہ یہاں حج کی درخواست کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تو پھر حج کی درخواست منظور ہوتی ہے۔ لہٰذا اس طرح بھی حج ہوجائے گا یا کوئی کراہت یا نقص باقی رہے گا؟
جواب:۔
۳۲ہزار میں ۲۸ہزار کا ڈرافٹ لینا تو سودی کاروبار ہے۔(۱) البتہ اگر ۳۲ہزار کے بدلے میں ریالوں کا ڈرافٹ منگوایا جائے تو وہ چونکہ دُوسری کرنسی ہے، اس کی گنجائش نکل سکتی ہے،(۲) اور اگر کوئی ادارہ ڈرافٹ منگواکر دیتا ہو اور زائد رقم حقِ محنت کے طور پر وصول کرتا ہو تو یہ بھی جائز ہے۔(۳)
- (۱) الربا ۔۔۔ وفی الشرع فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال۔ (البنایۃ ج:۱۰ ص:۳۸۶، باب الربا)۔
- (۲) وإذا اختلف ھٰذہ الأصناف فبیعوا کیف شئتم إذا کان یدًا بید۔ (البنایۃ ص:۴۲۷، باب الربا)۔
- (۳) والبیعان ای المرابحۃ وبیع التولیۃ جائزان لاستجماع شرائط الجواز ۔۔۔ ما رآہ المسلمون حسنًا فھو عند اللہ حسن۔ (البنایۃ مع الھدایۃ ج:۱۰ ص:۳۵۰، باب المرابحۃ والتولیۃ، کتاب البیوع)۔

