ناجائزذرائعسےحجکرنا
کیاعربشیوخکےذریعےکیاہواحجقبولہوگا؟
سوال:۔
ہمارے ہاں سے لوگ عرب شیوخ کے توسط سے حج کرنے جاتے ہیں، عرب حضرات چونکہ بلوچستان شکار کی غرض سے آتے ہیں، یہاں کے معتبرین سے واسطہ ہوتا ہے، انہی معتبرین کے ذریعے سو دو سو آدمیوں کے لئے ہوائی سفر کا دوطرفہ ٹکٹ بھیجتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان آدمیوں کے لئے قیام وطعام کا خرچ بھی ساتھ بھیجتے ہیں، جبکہ یہ خرچ اکثر معتبرین خوردبُرد کرتے ہیں، صرف ٹکٹ متعلقہ شخص کو عطا فرماتے ہیں، اِلَّا ماشاء اللہ کبھی کبھار ایک آدھ غریب ومسکین شخص کو ٹکٹ ملتا ہے، وہاں کے قیام وطعام، خرچ اور پاسپورٹ وغیرہ کا خرچ متعلقہ شخص کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا حج کرنا جائز ہے کہ ناجائز؟ بعض سرمایہ دار لوگ بھی یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ ان کا حج ادا ہوگا کہ نہیں؟
جواب:۔
ان کا حج ادا ہوجائے گا، لیکن جن لوگوں نے رقم خوردبُرد کردی ہے ان پر اس کا وبال پڑے گا، اور آخرت میں ان کو یہ رقم بھرنی پڑے گی۔(۱)
- (۱) عن أبی ھریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: اتدرون من المفلس؟ قالوا: المفلس فینا من لَا درھم لہ ولَا متاع! فقال: إن المفلس من اُمّتی من یأتی یوم القیامۃ بصلٰوۃ وصیام وزکٰوۃ، ویأتی قد شتم ھٰذا، وقذف ھٰذا، وأکل مال ھٰذا، وسفک دم ھٰذا، وضرب ھٰذا، فیعطی ھٰذا من حسناتہ، وھٰذا من حسناتہ، فإن فنیت حسناتہ قبل أن یقضی ما علیہ، اُخذ من خطایاھم فطرحت علیہ، ثم طرح فی النار۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۵، باب الظلم، الفصل الأوّل)۔

