بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

بینک‌کی‌طرف‌سے‌حاجیوں‌کو‌تحفہ‌دینا

سوال:۔

جن درخواست گزاروں کی حج کی درخواست منظور ہوجاتی ہے، انہیں متعلقہ بینک تحفے کے طور پر کچھ چیزیں عطا کرتے ہیں، مثلاً: پانی کے لئے تھرماس، ہینڈ بیگ وغیرہ۔ اس سال ایک بینک نے اِحرام بھجوائے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ سود کے زُمرے میں آتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس اِحرام سے حج کرنے میں کوئی حرج تو نہیں؟

جواب:۔

اس کی وضاحت بینک والوں کو کرنی چاہئے۔ اگر حاجیوں کی رقم ہی کا کچھ حصہ بطورِ تحفہ پیش کیا جاتا ہے تو جائز ہے، اور اگر بینک کی طرف سے تحفہ دِیا جاتا ہے (کیونکہ بینک نے چار پانچ مہینے حاجیوں کی رقم کا سود کھایا ہے، اس لئے بینک شکریہ کے طور پر حاجیوں کی خدمت میں یہ حقیر سا تحفہ پیش کرتا ہے) تو یہ حلال نہیں، کیونکہ یہ سود کی رقم سے دِیا گیا ہے۔(۱)

  1. (۱) عن أبی جحیفۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن ثمن الدم وثمن الکلب وکسب البغٰی ولعن آکل الربا وموکلہ والواشمۃ والمستوشمۃ والمصور۔ رواہ البخاری۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱، باب الکسب وطلب الحلال)۔ عن جابر قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۴)۔