بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

حجاجِ‌کرام‌کے‌لئے‌بینک‌کے‌تحفے

سوال:۔

جس بینک کے ذریعے ہم نے حج کے ڈرافٹ جمع کرائے اور حج کے متعلق کام کرائے، اس کے بعد بینک نے ہمیں تحفے کے طور پر پانی کا تھرماس اور ایک عدد بیگ دِیا، چونکہ بینک کا کام سودی ہوتا ہے، آیا یہ تحفے ہمیں حج پر لے جانا جائز ہے؟ یا پھر ہم اس تحفے کو واپس کردیں؟ مہربانی فرماکر اس مسئلے کے بارے میں اپنی رائے سے مستفید فرمائیں۔

جواب:۔

حاجیوں کی جو رقم جمع ہوتی ہے بینک اس پر سود لیتا ہے اور یہ سود گورنمنٹ کے کام آتا ہے یا بینک والوں کے، اس کا مجھے علم نہیں، اور اسی سود کی رقم سے حاجیوں کو کچھ تحفے تحائف بھی دے دئیے جاتے ہیں، اب خود ہی غور کرلیجئے کہ ان کا لینا حاجیوں کے لئے کہاں تک صحیح ہوگا ؟(۱)

  1. (۱) عن علی رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ۔ (مسند إمام اعظم ص:۱۶۴)