بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

بیٹے‌کے‌سودی‌کاروبار‌کے‌پیسے‌سے‌حج‌کیسے‌کریں؟

سوال:۔

بینک سے کاروبار ہونے کے باعث میرے بیٹے کی آمدنی میں سود کی ملاوَٹ ہے، عالم لوگ کہتے ہیں کہ سودی پیسے سے حج وعمرہ نہیں ہوتا، ان کا فرمان ہے کہ کسی غیرمسلم سے قرض لے کر حج وعمرہ ادا کیا جائے، اور پھر اپنے پیسے سے قرض ادا کردیا جائے، یہاں اوّل اِشکال یہ ہے کہ مقروض کا حج نہیں ہوتا، دوم میرے بیٹے نے اُدھار مانگا تھا لیکن اُدھار دینے والا غیرمسلم قرض کی رقم پر سود طلب کرتا ہے، میرے بیٹے نے مجھے نقد رقم دے دی ہے یہ کہہ کر کر اب آپ جانیں، آپ کا کام جانے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سودی پیسے سے ہمارا تمام کاروبار چلتا ہے تو اس کا تدارک کیا ہو؟ مجھے جواب کی جلدی اس لئے ہے کہ اس سال حج کی نیت سے یہاں لندن میں بیٹے کے پاس ہم آئے ہیں، اور حج کی درخواست دی ہے، رہنمائی فرمائیں۔ نیز یہ کہ بیٹا ہی ہمارا واحد کفیل ہے اور ہم عرصہ بیس پچّیس سال سے بیٹے کی آمدنی سے زکوٰۃ ادا کرتے اور قربانی کرتے آئے ہیں، آئندہ کیا کریں؟

جواب:۔

جب آپ کے ذمے حج فرض نہیں، تو آپ مہربانی کرکے جائیں ہی نہیں، آپ کو نہ جانے پر ثواب ملے گا، اور رقم اپنے بیٹے کو واپس کردیں۔(۱)

  1. (۱) وأما شرائط وجوبہ إلخ منھا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ بطریق الملک والْإجارۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷)۔