بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

تحفہ‌یا‌رشوت‌کی‌رقم‌سے‌حج‌کرنا

سوال:۔

مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک مقامی دفتر میں ملازم ہوں، میری آمدنی اتنی نہیں ہے کہ میں اور میری اہلیہ پس انداز کرکے رقم جمع کریں اور حج پر جاسکیں، ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے، بلکہ فرض ہے، ہم حج فریضہ جلد از جلد ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر میرے پاس کچھ رقم جمع ہوجائے جو مجھے دفتر میں تھوڑی تھوڑی کرکے بطور تحفہ ملی ہو تو کیا ہم اس میں سے حج پر وہ رقم خرچ کرکے اس فرض کو ادا کرسکتے ہیں؟ یقین جانئے کہ میں نے کبھی حکومت سے کوئی بے ایمانی یا دھوکا دے کر رقم نہیں لی بلکہ زبردستی رقم دی گئی ہے بطور تحفہ۔ کیا ایسی رقم سے حج ادا کرنا جائز ہے؟ برائے مہربانی مجھے اس مسئلے سے آگاہ کریں۔

جواب:۔

حج ایک مقدس فریضہ ہے، مگر یہ اسی پر فرض ہے جو اس کی اِستطاعت رکھتا ہو۔(۱) آپ کو جو رقم تحفے میں ملی ہے اگر آپ ملازم نہ ہوتے، کیا تب بھی یہ رقم آپ کو ملتی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو یہ تحفہ نہیں رشوت ہے اور اس سے حج کرنا جائز نہیں بلکہ جن لوگوں سے لی گئی، ان کو لوٹانا ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) وھو واجب أی فرض فی العمر مرّۃ علی الأحرار البالغین العقلاء الأصحّاء إذا قدروا علی الزاد ذھابًا وإیابًا والراحلۃ ۔۔۔ فاضلًا أی زائدًا ذالک عن مسکنہ وما لَا بدّ لہ منہ کالثیاب وأثاث المنزل والخادم ونحو ذالک ۔۔۔ عن نفقۃ عیالہ ۔۔۔ إلٰی حین عودہ ۔۔۔إلخ۔ (اللباب فی شرح الکتاب ج:۱ ص:۱۶۴، کتاب الحج، طبع قدیمی)۔
  2. (۲) عن أبی اُمامۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من شفع لأحد شفاعۃ فاھدٰی لہ ھدیۃ علیھا فقبلھا فقد أتی بابًا عظیمًا من أبواب الربا۔ (مشکٰوۃ ص:۳۲۶، باب رزق الولَاۃ وھدایاھم)۔