بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

حرام‌کمائی‌سے‌حج

سوال:۔

یہ تو متفقہ مسئلہ ہے کہ حج حرام کی کمائی کا قبول نہیں ہوتا، لیکن میں نے ایک مولوی صاحب سے سنا ہے کہ اگر یہ شخص کسی غیرمسلم سے قرض لے کر حج کے واجبات ادا کرے تو اُمید کی جاتی ہے اللہ سے کہ اس کا حج قبول ہوجائے گا۔ پوچھنا یہ ہے کہ غیرمسلم کا مال تو ویسے بھی حرام ہے، یہ کیسے حج ادا ہوگا؟ براہِ مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں۔

جواب:۔

غیرمسلم تو حلال و حرام کا قائل ہی نہیں، اس لئے حلال و حرام اس کے حق میں یکساں ہے۔ اور مسلمان جب اس سے قرض لے گا تو وہ رقم مسلمان کے لئے حلال ہوگی، اس سے صدقہ کرسکتا ہے، حج کرسکتا ہے، بعد میں جب اس کا قرض حرام پیسے سے ادا کرے گا تو یہ گناہ ہوگا، لیکن حج میں حرام پیسے استعمال نہ ہوں گے۔(۱)

  1. (۱) والحیلۃ لمن لیس معہ إلّا مال حرام أو فیہ شبھۃ أن یستدین للحج من مال حلال ۔۔۔ ویحج بہ ثم یقضی دینہ من مالہ۔ (غنیۃ الناسک ص:۲۱، باب شرائط الحج، طبع إدارۃ القرآن)۔