ناجائزذرائعسےحجکرنا
کیارشوتیںلینےوالوںکاجائزپیسےسےحج،حجِمقبولہوتاہے؟
سوال:۔
کیا ان حضرات کے حج، عمرہ کرنے سے اگلے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو پاک وطن پاکستان میں حکومت کی ملازمت میں رہتے ہوئے تمام عمر تو عوام الناس کی جیبوں پر ڈاکے ڈالتے رہے، رِشوتوں سے پیٹ بھرتے رہے، بنگلہ، کار، بینک بیلنس، جائیدادیں بناتے رہے؟ ریٹائر ہونے کے بعد پنشن کی رقم ملی یا کسی بیٹے، بھائی، بھتیجے نے غیرممالک سے پیسے بھیج دئیے کہ یہ پیسے حلال ہیں، حرام نہیں، حج عمرہ کرنے چلے جاتے ہیں تاکہ عمر میں جو حقوق العباد ہضم کئے، رشوتیں کھائیں، اللہ سے معاف کرالیں اور ’’حاجی‘‘ کا لقب بھی حاصل کرلیں۔ کیا بارگاہِ ربّ العزّت میں ان کا حج عمرہ قابلِ قبول ہوگا؟
جواب:۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کس کا حج مقبول ہوتا ہے کس کا نہیں؟ یہ تو اس مالک ہی کو معلوم ہے، ہمیں اس کے معاملات میں دخل دینے کا حق نہیں۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حجِ مقبول‘‘ کی کچھ علامتیں ذکر فرمائی ہیں، ان کو سامنے رکھ کر ہر شخص کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ اس کے حج میں ’’حجِ مقبول‘‘ کی علامت پائی جاتی ہے یا نہیں؟
ایک علامت یہ ہے کہ حج میں مال حلال خرچ کیا ہو، مالِ حرام سے جو حج کیا جائے وہ قبول نہیں بلکہ مردود ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’اللہ تعالیٰ خود بھی پاک ہیں اور پاک چیز ہی کو قبول فرماتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے: ’’اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو‘‘ (المؤمنون:۵۱) اور فرمایا: ’’اے ایمان والو! ان پاک چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں‘‘ (البقرۃ:۱۷۲) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذِکر فرمایا جو طویل سفر کرتا (حج کو جاتا) ہے، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، بدن اور کپڑے میلے کچیلے ہیں، وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلاکر کہتا ہے: ’’اے میرے رَبّ! اے میرے رَبّ!!‘‘ حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام کا، اس کا لباس حرام کا، اور حرام کی غذا سے اس کی پروَرِش ہوئی، پس اس کی دُعا کیسے قبول ہو؟‘‘(۱)
پس جو شخص چاہتا ہو کہ اس کو ’’حجِ مقبول‘‘ کی سعادت نصیب ہو، اس کو لازم ہے کہ حلال اور پاک مال سے حج کرے۔
ایک علامت یہ ہے کہ حج پر جانے سے پہلے تمام گناہوں سے توبہ کی ہو، اور جن لوگوں کے جانی، مالی حقوق اس کے ذمے ہیں ان کو یا تو اَدا کردے یا معاف کرائے، لوگوں کے حقوق اپنے ذمے رکھ کر کیا گیا حج قبول نہیں ہوتا۔(۲)
ایک علامت یہ ہے کہ حج کے ارکان صحیح ادا کئے ہوں، اگر حج کے ارکان صحیح ادا نہیں کئے تو قبولیتِ حج مشکل ہے۔(۳)
- (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان اللہ طیب لَا یقبل إلّا طیبا، وإن اللہ أمر المؤمنین بما أمر بہ المرسلین فقال: یٰٓایھا الرسل کلوا من الطیّبٰت واعملوا صالحًا إنّی بما تعملون علیم۔ وقال:ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ ﵞ۔ ثم ذکر الرجل یطیل السفر أشعث أغبر یمدّ یدیہ إلی السماء: یا رَبّ! یا رَبّ! ومطعمہ حرام ومشربہ حرام وملبسہ حرام وغذی بالحرام فأنّٰی یستجاب لذٰلک۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۱، باب الکسب وطلب الحلال)
- (۲) یبدأ بالتوبۃ ۔۔۔ ورد المظالم واستحلال من کل خصومہ ومن کل عاملہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۹)۔
- (۳) قال النووی: انہ (ای الحج المبرور) الذی لَا یخالطہ شیء من الْإثم۔ (معارف السنن ج:۶ ص:۱۲)۔

