بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

رشوت‌لینے‌والے‌کا‌حلال‌کمائی‌سے‌حج

سوال:۔

میں جس جگہ کام کرتا ہوں اس جگہ اُوپر کی آمدنی بہت ہے، لیکن میں اپنی تنخواہ جو کہ حلال ہے علیحدہ رکھتا ہوں۔ کیا میں اپنی اس آمدنی سے خود اور اپنی بیوی کو حج کرواسکتا ہوں جبکہ میری تنخواہ کے اندر ایک پیسہ بھی حرام نہیں؟

جواب:۔

جب آپ کی تنخواہ حلال ہے تو اس سے حج کرنے میں کیا اِشکال ہے؟ ’’اُوپر کی آمدنی‘‘ سے مراد اگر حرام کا روپیہ ہے تو اس کے بارے میں آپ کو پوچھنا چاہئے تھا کہ: ’’حلال کی کمائی تو میں جمع کرتا ہوں اور حرام کی کمائی کھاتا ہوں، میرا یہ طرزِ عمل کیسا ہے؟‘‘

حدیث شریف میں ہے کہ: ’’جس جسم کی غذا حرام کی ہو، دوزخ کی آگ اس کی زیادہ مستحق ہے۔‘‘(۱)

ایک اور حدیث ہے کہ: ’’ایک آدمی دُور دراز سے سفر کرکے (حج پر) آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے ’’یا رَبّ! یا رَبّ!‘‘ کہہ کر گڑگڑا کر دُعا کرتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا، غذا حرام کی، اس کی دُعا کیسے قبول ہو؟‘‘(۲) الغرض حج پر جانا چاہتے ہیں تو حرام کمائی سے توبہ کریں۔

  1. (۱) عن جابر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا یدخل الجنّۃ لحمٌ نَبَتَ من السُّحْتِ، وکل لحم نَبَتَ من السُّحْتِ کانت النار أولٰی بہٖ۔ (مشکٰوۃ، باب الکسب وطلب الحلال ص:۲۴۲، طبع قدیمی)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ۔۔۔ رجل یطیل السفر أشعث أغبر یمدّ یدیہ إلی السماء: یَا رَبّ! یَا رَبّ! ومطعمہ حرام ومشربہ حرام وملبسہ حرام وغذی بالحرام فأنّٰی یستجاب لذٰلک۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱، باب الکسب)۔