بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ناجائز‌ذرائع‌سے‌حج‌کرنا

غصب‌شدہ‌رقم‌سے‌حج‌کرنا

سوال:۔

کسی کی ذاتی چیز پر دُوسرا آدمی قبضہ کرلے، جس کی قیمت پچاس ہزار روپے ہو اور وہ اس کا مالک بن بیٹھے تو کیا وہ حج کرسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بارے میں کیا فرمان ہے؟

جواب:۔

دُوسرے کی چیز پر ناجائز قبضہ کرکے اس کا مالک بن بیٹھنا گناہِ کبیرہ اور سنگین جرم ہے۔(۱) ایسا شخص اگر حج پر جائے گا تو حج سے جو فوائد مطلوب ہیں وہ اس کو حاصل نہیں ہوں گے۔ حج پر جانے سے پہلے آدمی کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ اس کے ذمہ جو کسی کا حق واجب ہو اس سے سبکدوش ہوجائے، کسی کی امانت اس کے پاس ہو تو اس کو ادا کردے، اس کے بغیر اگر حج پر جائے گا تو محض نام کا حج ہوگا۔(۲) حدیث میں ہے کہ: ’’ایک شخص دُور سے (بیت اللہ کے) سفر پر جاتا ہے، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، بدن میل کچیل سے اَٹا ہوا ہے، وہ رو رو کر اللہ تعالیٰ کو ’’یا رَبّ! یا رَبّ!‘‘ کہہ کر پکارتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، لباس حرام کا، اس کی غذا حرام کی، اس کی دُعا کیسے قبول ہو۔۔۔!‘‘(۳)

  1. (۱) عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریٔ إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ، طبع قدیمی)۔ وعن عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم انہ قال: ۔۔۔ ومن انتھب نھبۃ فلیس منا۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵)۔
  2. (۲) کما لو صلّی مرائیا أو صام واغتاب فإن الفعل صحیح لٰـکنہ بلا ثواب۔ و اللہ تعالٰی أعلم۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۴۵۶)۔
  3. (۳) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ طیّب لَا یقبل إلّا طیّبا ۔۔۔ ثم ذکر الرجل یطیل السفر أشعث أغبر یمدّ یدیہ إلی السماء: یا رَبّ! یا رَبّ! ومطعمہ حرام ومشربہ حرام وملبسہ حرام وغذی بالحرام فأنّٰی یستجاب لذٰلک۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۱، باب الکسب وطلب الحلال، طبع قدیمی)۔