بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

قرضے‌کی‌رقم‌سے‌صدقہ،‌حج‌کرنا‌اور‌قربانی‌دینا

سوال:۔

میں بچوں کی وجہ سے نوکری چھوڑ کر گھر بیوی کی مدد کے لئے رہ رہا ہوں، ہم ماہوار قرضہ لے رہے ہیں، جس پر کوئی سود وغیرہ نہ ہوگا، جب میں واپس نوکری پر لگ جاؤں گا تو ادائیگی کردیں گے۔ معلوم کرنا ہے کہ آیا اس (قرض کے پیسے سے) پیسے میں سے ۱:ہم قربانی دے سکتے ہیں یا نہیں؟ ۲:خیرات (مسجد کی مدد، یا کسی آدمی کو) ہم دے سکتے ہیں یا نہیں؟ ۳:ماں باپ کو اس پیسے میں سے حج کراسکتے ہیں یا نہیں؟ ۴:اس پیسے میں سے زکوٰۃ بھی دے سکتے ہیں؟ ۵:اور کوئی خیرات دیں تو لگے گی یا نہیں؟

جواب:۔

جب آپ کے پاس اپنی رقم نہیں تو ظاہر ہے کہ آپ پر نہ زکوٰۃ واجب ہے، نہ قربانی، مگر آپ قرض کی رقم کو اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کرنے کے مختار ہیں، قربانی کرنا چاہیں تو قربانی کرسکتے ہیں، صدقہ خیرات کرسکتے ہیں، حج کرسکتے ہیں، والدین کو کراسکتے ہیں۔(۱)

  1. (۱) من شرائط الحج القدرۃ علی الزاد والراحلۃ ۔۔۔ أن یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ ۔۔۔ قدر ما یبلغہ إلٰی مکۃ ذاھبًا وجائیًا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔