بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

پہلے‌قرض‌ادا‌کروں‌یا‌نفلی‌حج؟

سوال:۔

میں نے ۱۹۹۶ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی، میں نے وہاں خصوصی طور پر یہ دُعا کی: اے اللہ! مجھے توفیق دے کہ آئندہ سال میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کرنے آؤں۔ چونکہ میں ایک معمولی ملازم ہوں، اور میری اپنی حیثیت کچھ بھی نہیں۔ اس سال ۱۹۹۷ء میں، میں نے ایک گھر خریدا ہے، جو کہ ساڑھے تین لاکھ روپے کا ہے، ڈیڑھ لاکھ ادا کردیا ہے، اور باقی رقم ۲ سال بعد ادا کرنی ہے (دو لاکھ روپے)۔ چھ ماہ قبل میں نے مکان کی ادائیگی کے لئے کمیٹی ڈالی تھی، جو کہ اس ماہ اگست ۱۹۹۷ء میں نکل آئی ہے، اس کی مالیت ساٹھ ہزار روپے ہے، اور ابھی میں نے چھ ماہ مزید کمیٹی کی ادائیگی کرنی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب میں کیا کروں؟ اس ساٹھ ہزار روپے کو حجِ بدل کے لئے جمع کرادُوں؟ یا مکان کے قرضے میں ادا کروں؟

جواب:۔

نفلی حج کے بجائے قرضہ ادا کرنا بہتر ہے،(۱) اللہ تعالیٰ توفیق دیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج بھی ادا کرلینا۔

  1. (۱) إذا أراد الرجل أن یحج قالوا ینبغی أن یقضی دیونہ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۹، کتاب المناسک)۔