بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

حج‌کی‌رقم‌دُوسرے‌مصرف‌پر‌لگادینا

سوال:۔

میں نے اپنی والدہ کو دو سال قبل ان کے لئے اور والد صاحب کے لئے حج کی رقم دی جو انہوں نے کسی اور مد میں لگادی ہے، وہاں سے یک مشت رقم کی واپسی ایک دو سال کے لئے ممکن نہیں۔ میں نے ان سے حج کے لئے تقاضا کیا تو کہنے لگیں کہ قسمت میں ہوگا تو کرلیں گے، تمہارا فرض ادا ہوگیا۔ مولوی صاحب! یہ بتلائیے کہ کیا واقعی میں نے جس نیت سے ان کو پیسہ دیا تھا اس کا ثواب مجھے مل گیا؟ اور یہ کہ کہیں خدانخواستہ والدہ فی الوقت تک حج نہ کرسکنے کی بنا پر گناہ گار تو نہیں ہیں؟

جواب:۔

آپ کو تو ثواب مل گیا اور آپ کی والدہ پر حج فرض ہوگیا، اگر حج کے بغیر مرگئیں تو گناہ گار ہوں گی اور ان پر لازم ہوگا کہ وہ وصیت کرکے مریں کہ ان کی طرف سے حجِ بدل کرادیا جائے۔(۱)

  1. (۱) من علیہ الحج إذا مات قبل أدائہ فان مات عن غیر وصیۃ یأثم بلاخلاف وإن أحب الوارث أن یحج عنہ حج وأرجوا أن یجزئہ ذٰلک إن شاء اللہ تعالٰی کذا ذکر أبوحنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی وإن مات عن وصیۃ لَا یسقط الحج عنہ وإذا حج عنہ یجوز عندنا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۵۸، کتاب المناسک، الباب الخامس عشر فی الوصیۃ بالحج)۔