حجاورعمرہکیفرضیت
کیابیویکیآمدنیسےحجکرناجائزہے؟
سوال:۔
میں اور میرے شوہر ڈاکٹر ہیں، گھر کے پاس ذاتی کلینک بھی ہے، لیڈی ڈاکٹر کی ضرورت زیادہ ہونے کی وجہ سے میری آمدنی میرے شوہر کی آمدنی سے زیادہ ہے۔ اب ہمارا حج پر جانے کا اِرادہ ہے، گھر کے اِخراجات میانہ روی سے پورے کرنے کے بعد میرے شوہر کی آمدنی سے حج کے اِخراجات پورے کرنا ممکن نہیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بیوی بچوں اور گھر کے تمام اِخراجات شوہر کے ذمے ہوتے ہیں۔ آج کل کے مہنگائی کے دور میں اگر شوہر اِیمان داری سے کمائیں تو عزّت سے گزربسر تو ہوسکتی ہے مگر دیگر سہولتیں مثلاً ذاتی مکان اور حج کے اِخراجات تقریباً ناممکن ہیں۔ میری دِلی خواہش تھی کہ میں اپنے شوہر کی آمدنی سے حج کروں، مگر سرِدست یہ ممکن نہیں، ہوسکتا ہے کچھ سالوں کے بعد یہ ممکن ہو۔ کیا میں اور میرے شوہر، میری آمدنی سے اس سال حج پر جاسکتے ہیں جبکہ مجھے اس پر کوئی اِعتراض نہیں ہے؟ کیا بیوی کی کمائی سے حج جائز ہے؟ اور کیا ہمیں حج کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
جواب:۔
اگر آپ دونوں میاں بیوی، آپ کی کمائی سے حج پر جائیں بلاشبہ جائز ہے اور آپ کو دُہرا ثواب ملے گا۔(۱)
- (۱) ومنھا القدرۃ علی الزاد والراحلۃ بطریق الملک أو الْإجارۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷)۔

