بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

حج‌ڈیوٹی‌کے‌لئے‌جانے‌والا‌اگر‌حج‌بھی‌کرلے‌تو‌اس‌کا‌حج‌ہوجائے‌گا

سوال:۔

میں یہاں ریاض سے ڈیوٹی دینے کے لئے مقاماتِ حج پر حکومت کی طرف سے بھیجا گیا، میرے افسر نے کہا کہ تم ڈیوٹی کے ساتھ حج بھی کرسکو گے، اس طرح میرے افسر کے ساتھ میں نے حج کے تمام مناسک پوری طرح ادا کئے۔ اب واپس آنے کے بعد میرے کچھ ساتھی کہتے ہیں کہ اس طرح ڈیوٹی کے ساتھ حج نہیں ہوا۔ جبکہ ہمارے ساتھ بہت سے مولانا حضرات بھی تھے جنھوں نے ڈیوٹی بھی دی، جو کام حکومت نے ہمارے سپرد کیا تھا وہ بھی پورا کیا اور افسروں کی اجازت کے ساتھ مناسکِ حج بھی پوری طرح انجام دئیے۔ آپ کے خیال میں ایسے حج کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

جواب:۔

آپ کا حج ’’ہم خرما و ہم ثواب‘‘ کا مصداق ہے، آپ کو دُہرا ثواب ملا، حج کا بھی اور حجاج کی خدمت کرنے کا بھی۔(۱)

  1. (۱) الحج المبرور لیس لہ جزاء إلّا الجنّۃ، قالوا: یا رسول اللہ ! ما بّر الحج؟ قال: إطعام الطعام وإفشاء السلام۔ (کنز العمال ج:۵ ص:۱۳، حدیث نمبر:۱۱۸۳۴ طبع مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)۔