حجاورعمرہکیفرضیت
سعودیعربمیںملازمتکرنےوالوںکاعمرہوحج
سوال:۔
جو لوگ نوکری کے لئے جدہ یا سعودی عرب کی دُوسری جگہ جاتے ہیں، وہاں سے ہوکر وہ حج یا عمرہ ادا کرتے ہیں۔ حدیث کی رُو سے اس کا ثواب کیا ہے؟ جبکہ دُور سے لوگ پاکستان سے ہوکر حج یا عمرہ ادا کرنے جاتے ہیں یا غریب آدمی جو پیسہ پیسہ جمع کرتا رہتا ہے اور نیت بھی ہوتی ہے کہ میں حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کروں گا۔ دُوسرا آدمی جبکہ نوکری کے سلسلے میں گیا تھا اس نے بھی یہ سعادت حاصل کی، کیا دونوں صورتوں میں کوئی فرق تو نہیں ہے؟
جواب:۔
جو لوگ ملازمت کے سلسلے میں سعودی عرب گئے ہوں، اور حج کے دنوں میں بیت اللہ شریف پہنچ سکتے ہوں ان پر حج فرض ہے،(۱) اور ان کا حج و عمرہ صحیح ہے۔ اگر اِخلاص ہو اور حج و عمرہ کے اَرکان بھی صحیح ادا کریں تو ان شاء اللہ ان کو بھی حج و عمرہ کا اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ وطن سے جانے والوں کو۔ اور جو غریب آدمی پیسہ پیسہ جمع کرکے حج کی تیاری کرتا رہا مگر اتنا سرمایہ میسر نہ آسکا کہ حج کے لئے جائے، ان شاء اللہ اس کو اس کی نیت پر حج کا ثواب ملے گا۔(۲)
- (۱) وفی الینابیع یجب الحج علٰی أھل مکۃ ومن حولھا ممن کان بینہ وبین مکۃ أقل من ثلاثۃ أیام إذا کانوا قادرین علی المشی وإن لم یقدروا علی الراحلۃ ولٰـکن لَابد أن یکون لھم من الطعام مقدار ما یکفیھم وعیالھم بالمعروف إلٰی عودھم کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۷، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔
- (۲) وقد روی أیضًا من حدیث أبی موسی الأشعری رضی اللہ عنہ نیۃ المؤمن خیر من عملہ ان اللہ عزّ وجلّ لیعطی العبد علٰی نیتہ ما لَا یعطیہ علٰی عملہ وذٰلک ان النیۃ لَا ریاء فیھا والعمل یخالطہ الریاء۔ (إتحاف السادۃ ج:۱۰ ص:۱۵ طبع دار الفکر بیروت)۔

