حجاورعمرہکیفرضیت
حجفرضہوتوعورتکواپنےشوہراورلڑکےکواپنےوالدسےاجازتلیناضرورینہیں
سوال:۔
میرے والد صاحب فریضۂ حج ادا کرچکے ہیں اور میں اور میری امی بہت عرصے سے والد صاحب سے فریضۂ حج کی ادائیگی کے لئے اجازت مانگتے ہیں، مگر وہ اس لئے انکار کرتے ہیں کہ پیسے خرچ ہوں گے، اس لئے وہ ٹال دیتے ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اتنی طاقت دی ہے کہ ہم باپ سے پیسے مانگے بغیر حج کا فرض ادا کرسکتے ہیں، صرف ان کی اجازت کی ضرورت ہے، کیا ہم حج کی تیاری کریں یا نہیں؟
جواب:۔
اگر حج آپ پر اور آپ کی والدہ پر فرض ہے تو آپ حج پر ضرور جائیں۔ حجِ فرض کے لئے عورت کو اپنے شوہر سے اجازت لینا (بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی محرَم جارہا ہو)(۱) اور بیٹے کا باپ سے اجازت لینا ضروری نہیں۔(۲)
- (۱) ولیس لزوجھا منعھا عن حجۃ الْإسلام۔ وفی رد المحتار: أی إذا کان معھا محرم وإلّا فلہ منعھا کما یمنعھا من غیر حجۃ الْإسلام۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۴۶۵، مطلب فی قولھم یقدم حق العبد ۔۔۔إلخ)۔ وعند وجود المحرم کان علیھا أن تحج حجۃ الْإسلام وإن لم یأذن لھا زوجھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۱۹، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔
- (۲) ویکرہ الخروج إلی الحج إذا کرہ أحد أبویہ إن کان الوالد محتاجًا إلٰی خدمۃ الولد وإن کان مستغنیا عن خدمتہ فلا بأس۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۲۲۰، کتاب المناسک، الباب الأوّل)۔

