بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج‌اور‌عمرہ‌کی‌فرضیت

جس‌کی‌طرف‌سے‌عمرہ‌کیا‌جائے‌اس‌پر‌حج‌فرض‌نہیں‌ہوتا

سوال:۔

کیا کوئی سعودی عرب میں رہ کر اپنے عزیزوں کے لئے جو کہ زندہ ہوں مثلاً بھائیوں کے لئے، ماں باپ کے لئے، بیوی بچوں کے لئے عمرہ کرسکتا ہے؟ سنا ہے جس کے نام سے عمرہ کیا ہو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے۔ کیا یہ صحیح ہے کہ صرف مرحومین کے نام کا عمرہ ہی ہوسکتا ہے؟

جواب:۔

عمرہ زندوں کی طرف سے بھی کیا جاسکتا ہے،(۱) جن کی طرف سے کیا جائے ان پر حج فرض نہیں ہوجاتا جب تک کہ وہ صاحبِ اِستطاعت نہ ہوجائیں۔(۲)

  1. (۱) وفی الحج النفل تجوز الْإنابۃ حالۃ القدرۃ لأنّ باب النفل أوسع۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۷۷)۔ أیضًا: وفی البحر: من صام أو صلّٰی أو تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الأموات والأحیاء جاز، ویصل ثوابھا إلیھم عند أھل السُّنَّۃ والجماعۃ کذا فی البدائع، ثم قال: وبھٰذا علم أنہ لَا فرق بین أن یکون المجعول لہ میتًا أو حیًّا، والظاھر أنہ لَا فرق بین أن ینوی بہ عند الفعل للغیر أو یفعلہ لنفسہ ثم بعد ذالک یجعل ثوابہ لغیرہ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۴۳، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب فی القراۃ ۔۔۔إلخ)۔
  2. (۲) الحج واجب ۔۔۔ إذا قدروا علی الزاد والراحلۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۲۱۱، کتاب الحج)۔